ہم اپنی کہانی خود لکھیں

رات کے پچھلے پہر جب گاؤں کے چراغ بجھ چکے تھے اور کھیتوں پر صرف تاریکی کا پہرہ تھا, ایک اجنبی قافلہ آیا, وہ خالی ہاتھ نہ آئے تھے۔ ان کے ہاتھوں میں نقشے تھے( ہمارے کھیتوں کے، ہمارے دریاؤں کے، ہماری زبان کے، الفاظ کے) انہوں نے ہر چیز کو گنا، ہر پگ ڈنڈی کو فہرست میں لکھا، ہر پہاڑ کو نام دیا لیکن کبھی ہم سے نہ پوچھا کہ اسے کیا کہتے ہیں انہوں نے زمین کو ناپا لیکن وہ اس بات کا اندازہ نہ لگا پائےکہ اس میں ہمارے بزرگوں کی کتنی ہڈیاں دفن ہیں، انہوں نے دریا کی گہرائی تو جانچ لی مگر پیاس کا اندازہ  نہ کیا ۔مختصر یہ کہ انہوں نے سب کچھ درج کیا سوائے ہماری کہانی کے۔ پہلے پہلے انہوں نے مہمان کا روپ اختیار کیا اور ہم سادہ لوح جیسے ہمارے آبا و اجداد نے سکھایا تھا۔۔ دروازے کھول دیے، دسترخوان بچھایا، پانی رکھا اور جگہ دی کیوں کیونکہ ہمارے گاؤں کی روایت تھی کہ مہمان کو خدا کا نور سمجھو لیکن ستم ظریفی یہ کہ وہ مہمان خدا کا نور نہیں بلکہ خود خدا بننا چاہتے تھے۔ پھر انہی  مہمانوں نے مددگار کا روپ اختیار کیا اور کہا ہم مددگار ہیں اور ہم نے پھر یقین کر لیا کیونکہ وہ بڑی بڑی کتابیں لائے تھے اور ہمیں یہ بتایا گیا تھا کہ کتاب والا کبھی بھی جھوٹ نہیں بولتا اور انہوں نے ہمارے بچوں کو نئی زبان سکھائی، ایسی بولی جس میں ہمارے الفاظ کی کوئی جگہ نہ تھی۔ انہوں نے ہمارے گیتوں کو لوک داستان کہا اور اپنے گیتوں کو ترقی اور پھر ایک گاؤں والےنے آنکھ  کھولی اور دیکھا کہ کھانا تو انہی کا تھا لیکن بیٹھنے کے لیے جگہ نہ تھی، وہ کھیت جہاں ہمارے دادا نے خون پسینہ بہایا تھا اب کسی اور کے کاغذوں میں درج تھے، وہ دریا جن کے کنارے ہماری مائیں گیت گاتی تھیں اب کسی اور کی ملکیت تھا، وہ پہاڑ جس کی چوٹی پر ہم اپنے مردوں کو دفناتے تھے اب اس پر کسی اور کا جھنڈا لہراتا تھا اور ہماری زمین کا موسم بھی بدل گیا کیونکہ جو کارخانے وہ  اپنے ساتھ لائے تھے دھواں اڑاتے تھے، جو ندیوں میں زہر گھولتے تھے۔ انہوں نے آسمان کا رنگ بھی بدل دیا، بارشیں بے وقت آنے لگیں، فصل سوکھنے لگیں، ہمارے بچے بھوکے رہنے لگے لیکن ان کے گوداموں میں ہمارا ہی اناج تو  بھرا پڑا تھا۔ یہ صرف زمین کی لوٹ نہیں تھی، یہ موسموں کی بھی لوٹ تھی۔ گاؤں میں ایک عورت تھی جسے لوگ بڑی ماں کہتے تھے۔ اس کی کمر جھکی ہوئی تھی، عمر  کی وجہ سے نہیں بلکہ اس لیے کہ اس نے ہمیشہ دوسروں کا بوجھ اٹھایا تھا۔ اس کے ہاتھ کھردرے تھے، اس کی انکھیں گہری تھیں اور اس کی زبان میں وہ الفاظ تھے جو انہوں نے ہماری کتابوں سے نکال دیے تھے۔ جب قافلے والوں نے کہا تمہاری عورتیں جاہل ہیں ہم انہیں تعلیم دیں گے تو بڑی ماں نے آہستہ آواز  میں کہا، جو ماں اپنے بچے کو رات کی تاریکی میں ستاروں سے راستہ دکھائے کیا وہ جاہل ہے؟ جو عورت بغیر کسی کتاب کی بارش کا وقت جانے فصل کا حساب رکھے، زہر اور دوا میں فرق پہچانے کیا اسے تمہاری تعلیم کی ضرورت ہے یا تمہیں ضرورت ہے کہ تم اپنی تعلیم بھول جاؤ تو وہ  کوئی جواب نہ دے سکا کیونکہ سامراج کا سب سے  گہرا زخم یہی ہوتا ہے کہ وہ تمہاری ماؤں کو بھی یقین دلاتا ہے کہ وہ کچھ نہیں جانتی۔ سال گزرتے گئے نسلیں بدلتی رہیں اور  ہمارے بچے ان کی زبان پڑھنے لگے، ان کے لباس پہننے لگے، ان کے خوابوں کو اپنا خواب سمجھنے لگے اور وہ دسترخوان جو کبھی ہمارا تھا اب ہمیں اجنبی لگنے لگا۔ ہم اپنے گھر میں ہی مہمان بن گئے اور مہمان بھی ایسے کہ شاید جنہیں یہ بتایا گیا ہو کہ گھر پہلے سے ہی انہی کا تھا۔ بڑی اماں کی ایک نواسی تھی، اس کے ہاتھوں میں قلم تھا اور آنکھوں میں وہی گہرائی تھی اور سینے میں وہ سوال جو سامراج کبھی نہیں چاہتا تھا کہ کوئی پوچھے۔۔ اگر تم واقعی مددگار تھے تو ہمیں محتاج  کیوں رکھا اور یوں  وہ لڑکی لکھنے بیٹھ گئی۔ اس نے وہ کہانی لکھی جو کبھی کسی نے نہ پڑھی تھی۔ اس نے زمین کی کہانی لکھی، دریا کی کہانی لکھی اور بدلتے موسموں کی کہانی لکھی، اس نے اپنی دادی کی کہانی لکھی اور ان تمام ماؤں کی کہانی لکھی جنہوں نے بغیر کتاب کے علم رکھا اور جب اس نے وہ لکھنا ختم کیا تو وہ کاغذ اسی دسترخوان پر رکھا جہاں کبھی ان کے نقشے رکھے جاتے تھے۔ یہ بھی ایک نقشہ ہی تھا لیکن اس بار ہماری طرف سے وہ قافلہ تو چلا گیا لیکن جاتے جاتے وہ کچھ چھوڑ گیا۔۔ ایسے زخم جو نظر نہیں آتے لیکن ٹھیس دیتے ہیں، ایسے سوال جو کبھی ہماری اگلی نسلیں لیے پھرتی ہیں، ایسے آسمان جو ان کے کارخانوں کی وجہ سے اب بھی بھی بیمار ہیں، دسترخوان آج بھی وہی ہیں لیکن اب ہم اس پر بیٹھنے کے لیے جگہ نہیں مانگتے بلکہ بناتے ہیں اور ہاتھ میں قلم ہے اس لیے نہیں کہ ہم ان سے اجازت مانگیں بلکہ اس لیے کہ ہم اپنی کہانی خود لکھیں کیونکہ انہوں نے زمین، مزدوری، زبان سب کچھ درج کیا لیکن تمہاری کہانی کا ایک لفظ بھی لکھ نہ سکے، وہ کہانی ہماری تھی اور ہماری ہی رہے گی۔

Author

  • News Desk

    The Students' Herald News Desk focuses on reporting the latest news regarding student politics and campus updates to you.

    The News Desk can be reached at admin@thestudentsherald.com