شہید ذوالفقار علی بھٹو یونیورسٹی میں فیسوں میں اضافے پر طلبہ سراپا احتجاج

رپورٹ/ غلام مجتبیٰ

 انتظامیہ کی جانب سے یکدم فیسوں میں 33 فیصد اضافے کے خلاف شہید ذوالفقار علی بھٹو یونیورسٹی کے طلبہ کی جانب سے مسلسل احتجاج کا سلسلہ جاری ہے۔ بغیر پیشگی اطلاع کے فیسوں میں کیے جانے والے ہوشربا اضافے پر طلبہ نے شدید تشویش کا اظہار کیا۔  

طلبہ کا کہنا ہےکہ یونیورسٹی میں بے جا فیس کا بڑھایا جانا غریب طالب علموں کو دانستہ ً تعلیم کے زیور سے محروم رکھنے کے مترادف ہے ۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ہم اپنے کمزور ساتھیوں کا استحصال ہرگز برداشت نہیں کریں گے اور معیاری تعلیم کے بنیادی حق کو مہنگائی کی نظر نہیں ہونے دیں گے۔ یونیورسٹی کے اس قدم پر طلبا نے پر امن احتجاج کرنے اور اپنے حقوق کی جنگ لڑنے کے عزم کا اظہار کیا۔

طلبہ کی جانب سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ فیسوں میں اضافے کا نوٹیفکیشن فلفور واپس لیا جائے اور لائبریری، ٹرانسپورٹ اور ہاسٹل جیسی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے۔علاوہ ازیں یونیورسٹی کی جانب سے روکی گئی سکالرشپس کو دوبارہ بحال کیا جائے۔

 اس موقعے پر پروگرسیو سٹوڈنٹس کولیکٹیو کی ترجمان مقدس جرال کی جانب سے شہید ذوالفقار بھٹو یونیورسٹی کے طلباء کے جذبے کو سراہا گیا اور انتظامیہ کی طرف سے فیسوں میں اضافے کی مذمت کی گئی۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ہم اپنے ساتھی طالب ُ علموں کے ساتھ ان کے حق کی جنگ میں کندھے سے کندھا ملا کر چلنے کے لیے تیار ہیں اور اس وقت تک ڈٹے رہیں گے جب تک کہ یونیورسٹی فیسوں کے اضافے کا نوٹیفکیشن واپس نہیں لے لیتی۔ 

 

Leave a Reply

Your email address will not be published.