تعلیمی نظام اور کرپشن

ہر سال مہنگائی میں اضافہ ہوتا ہے اور ہر حکومت وعدہ کرتی ہے کہ کچھ وقت مہنگائی کے بعد حالات بہتر ہوں گے جو ابھی تک بہتر نہیں ہوئے۔ موجودہ نظام میں عوام کو معاشی طور پر کمزور کردیا گیا ہے۔ جہاں لوگ سردی سے مر رہیں ہوں وہاں ایک وقت کی روٹی کا سوال ہی مشکل ہے۔ حال ہی میں ایک نجی ٹی کے رپورٹر نے کے پی کے کچھ لوگوں سے مہنگائی پر بات کی تو عوام آپے سے باہر ہوگئے۔ ایک متوسط طبقے کے فرد نے کہا ہمیں بھیک مانگنے پر مجبور کردیا ہے نہ نوکری ہے نہ سرمایہ۔ اس صورت میں کیسے زندہ رہا جاسکتا ہے؟ بوڑھے شخص نے بتایا کہ معاشی صورتحال اتنی خراب ہے کہ ایک وقت کے کھانے کے لئے پریشان رہتے ہیں۔ اسی طرح جو منی بجٹ پیش کیا گیا اس حوالے سے وفاقی وزیر شیخ رشید کا کہنا ہے کہ “صرف 17 فیصد مہنگائی ہوگی” لیکن ان وزیروں اور مشیروں کو کون سمجھائے کہ اس طبقاتی نظام میں الیٹ تو گزار کرلیتی ہے لیکن غربت کی لکیر سے نیچے والا طبقہ اس مہنگائی سے مر رہا ہے۔
“کیا یہ قتل عام نہیں؟”
مہنگائی کے موضوع کو جتنا ہلکا لیا جائے گا اتنا ہی یہ حکومت بربریت کا مظاہرہ کرتے ہوئے مہنگائی کرتی جائے گی۔ حال ہی میں نئے داخلوں میں شاگردوں کی فیسوں میں بھی اضافہ کیا گیا ہے جب کہ اوپری سطح پر کرپشن جاری ہے۔ کئی یونیورسٹیز کے وائس چانسلرز پر کرپشن کے الزامات ہیں اور ان کا مقدمہ چل رہا ہے۔ یہ الزامات نظر انداز اس لئے نہیں کئے جاسکتے کیونکہ ان کی نوعیت کچھ مختلف ہے یہ کرپشن کوئی ہزاروں یا لاکھوں والی نہیں بلکہ اربوں والی ہے۔ 2002 میں علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی میں 1۔2 ملین کی کرپشن سامنے آئی۔ 2015 میں اسی یونیورسٹی میں 2 بلین کی کرپشن سامنے آئی۔ اسی طرح جی سی یونیورسٹی میں 2003 سے 2013 تک “غیر حاضر” اساتذہ کو 638 ملین ملتے رہے جو انتظامیہ ہڑپ کرتی رہی۔ 2018 میں پنجاب یونیورسٹی میں وی سی نے ناجائز من پسند بھرتیاں کیں۔ اسی طرح سندھ یونیورسٹی میں 730 ملین کی کرپشن کا کیس سامنے آیا۔ ہزارہ یونیورسٹی کے سابقہ وی سی پر550 ملین کی کرپشن کا الزام سامنے آیا۔ اس صورتحال میں شاگردوں کی فیسوں میں مسلسل اضافہ کیا جارہا ہے۔
مسئلہ مہنگائی بتایا جاتا ہے اور شاگردوں پر معاشی دباؤ ڈالا جاتا ہے۔ یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کرنے والا طالب علم ویسے ہی سماجی دباؤ میں مبتلا ہوتا ہے۔ آدھی سے زیادہ آبادی غریب طبقے پر مبنی ہے جن شاگردوں کو اپنی فیس بھی دینی ہوتی ہے اور اپنے گھر کو چلانا بھی ہوتا ہے۔ لیکن ظالم حکمران غریبوں پر دبائو ڈال کر خود اپنا پیٹ پالتے ہیں۔ اس لئے ضروری یہ کہ عوام نکل کر آئے اور اس ظلم کے خلاف اکٹھی ہوکر تحریک کا آغاز کرے۔ دوسرا یہ کہ اس مہنگائی کو مسترد کردے۔ تیسرا یہ کہ تعلیم کیونکہ بے حد ضروری ہے اس لئے جامعات کے معاشی ڈپارٹمنٹ کی شفاف تحقیقات کروائی جائیں اور شاگردوں کو واضح بتایا جائے ان کی فیسیں کہاں استعمال ہورہی ہیں؟
حال ہی ٹوئیٹر پر 8 بجے سب شاگردوں نے ٹرینڈ #InvestigateAllUniversities کو ٹاپ ٹرینڈ بنادیا لیکن حکمرانوں کے کانوں سے جوں بھی نہیں گزری۔ اس معاملے کو ایسے ختم نہیں ہونا چاہئے بلکہ اس ٹرینڈ کو بڑھایا جائے۔ تاکہ طلباء پر کم دبائو ہو اور وہ تمام تر توانائیاں سماج کو بہتر کرنے میں صرف کریں۔
موجودہ سرمایادارانہ نظام میں غریب طلبا کا تعلیم حاصل کرنا مشکل ہوگیا ہے جو اسکالرشپس دی جاتی تھیں وہ بھی آہستہ آہستہ بند کی جارہی ہیں جیسے فاٹا کے طلبا مسلسل احتجاج کررہے ہیں حالانکہ میڈیا اس کی کوریج نہیں کرتی پر پڑھنے والوں کیلئے یہ جاننا ضروری ہے کہ فاٹا اور بلوچستان کے طلبا اسکالرشپس کی بحالی کے لئے ایچ ای سی اسلام آباد کے سامنے مسلسل دھرنا دے رہیں ہیں۔ بحیثیت شاگرد میں سمجھتی ہوں یہ ظلم ہے کے شاگرد تعلیم حاصل کرنا چاہتا ہے اور پیسے نہ ہونے کی وجہ سے اسے تعلیم سے محروم رکھا جائے۔ پاکستان میں یہ عمل گزشتہ کچھ سالوں سے جاری ہے۔ معاشی بحران کی وجہ سے غریب طبقہ تباہ ہوگیا ہے۔ لوگ نہ صرف تعلیم اور روزگار سے محروم ہیں بلکہ روٹی، کپڑا اور مکان سے بھی محروم کردئے گئے ہیں۔ کوئی بھی ملک صرف خواندگی کی بہتر شرح ہونے کی وجہ سے ترقی حاصل کرتا ہے۔ ہمیں بھی چاہیئے کہ مزید وقت برباد کئے بغیر اپنے تعلیمی نظام کو بہتر بنائیں اور فائنینس میں شفافیت لاکر غریب طلبا کی مدد کریں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.