قائدِ اعظم یونیورسٹی میں کشمیر طالب علموں پر تشدد

رپورٹ: عمار شہزاد

مورخہ 20 جون کو قائد اعظم یونیورسٹی اسلام آباد میں ہوسٹل الاٹمنٹ کے تنازع پہ پنجاب کونسل کا کشمیری طلبہ پہ بیہمانہ تشدد۔

جھگڑا کشمیری طلبہ اور پنجاب کونسل کے طالب علموں کے درمیان ہوا۔ جس پر پنجاب کونسل کے طلبہ نے کشمیری طالب علموں پر تشدد کیا جس سے کشمیری طالب علم شدید زخمی حالت میں نواحی ہسپتال میں پہنچے جن کی حالت انتہائی تشویشناک بتائی جارہی ہے۔
عینی شاہدین کے مطابق جھگڑا اس وقت مزید بڑھا جب کشمیری طلبہ 20 جون کو دن کے وقت انٹر نیشنل ریلیشن ڈیپارٹمنٹ کے سامنے اپنے چند دوستوں کے ساتھ بیٹھے تھے کہ پنجاب کونسل کے کوئی ڈیڑھ سو کے قریب طالب علموں نے جو کے اسلحہ،چھریوں اور ڈنڈوں سے لیس گاڑیوں پر آئے تھے،ان پر تشدد کیا اور کشمیری جھنڈے کو بھی جلایا گیا۔
جس پر کشمیری طلبہ کی جانب سے پچھلے تین دن سے شدید احتجاجی مظاہرے جاری ہیں۔

مظاہرین کا کہنا ہے کہ یونیورسٹی انتظامیہ ملزمان کو سزا دینے کی بجائے انکی پشت پناہی کررہی یے۔انکا مزید کہنا تھا کہ ہمارا مطالبہ ہے کہ ملزمان کے خلاف فورا کارروائی کی جائے۔جبکہ باقی تمام گروہوں کی طرح کشمیری طلبہ کو بھی کشمیر کونسل بنانے کی اجازت دی جائے۔

اس حوالے سے پراگریسو سٹوڈنٹس کلیکٹوز کے سنٹرل آرگنائزر علی عبداللہ نے ہم سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ہم کشمیری طلبہ پر ہونے والے تشدد اور کشمیر کا جھنڈا جلائے جانے والے واقعے کی پرزور الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔انکا مزید کہنا تھا کہ کشمیر کا جھنڈا مظلومیت اور مزاحمت کی علامت ہے، ہم اس واقعے کی خصوصی طور پہ پرزور الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔اور جب تک کشمیری طلبہ کو انصاف فراہم نہیں کیا جاتا ہم انکے ساتھ بھرپور تعاون سے کھڑے رہیں گے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.