روس یوکرین جنگ کے پاکستان پر اثرات

عالمی نظام ایک پچیدہ نظام ہے جہاں کسی تبدیلی کی بنا پر اس نظام کو مختلف نتائج بھگتنے پڑسکتے ہیں. کرونا اس کی حالیہ مثال ہے جس کا اثر ترقی پزیر اور ترقی یافتہ ریاستوں کی معیشت پر ہوا، ابھی دنیا کرونا کے اثر سے نہیں نکلی پائی کہ روس اور یوکرین کی جنگ اس وقت عالمی امن کے لیے بڑا خطرہ بن چکی ہے جس کی وجہ سے دنیا کو روایتی سیکورٹی اور غیر روایتی سیکورٹی کے خطرات کا سامنا ہے۔

عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں کی وجہ سے خوراک کی قیمتیں بھی خطرناک حد تک بڑھ چکی ہیں۔ جو پوری دنیا کے عام لوگوں کے لیے ایک خطرناک صورت اختیار کر سکتی ہے۔ تنازعات دنیا میں غذائی عدم تحفظ کا اہم محرک ہے.
کھاد کی قیمتوں پر بھی اثر اس بنیاد پر مزید بڑھے گا کہ روس نائٹروجن کھاد اور پوٹاش کا اہم سپلائر ہے۔ عالمی سطح پر نائٹروجن کی تجارت میں روس کی برآمدات کا 17% حصہ ہے. کھاد کی عالمی منڈی, ریکارڈ بلند قیمتوں کی وجہ سے پریشان ہے مزید قلت کے عالمی مضمرات ہوں گے جس کا اثر ترقی پزیر ممالک پر زیادہ ہوگا۔

روس یوکرین تنازعہ کی وجہ سے عالمی مارکیٹ میں کھاد کی بڑھتی قیمتوں کا اثر پاکستان پر بھی ہوگا. اقوام متحدہ کے COMTRADE ڈیٹا کے مطابق پاکستان نے 2021 میں روس سے کیمیائی کھادوں کی درآمد کی, نائٹروجن 1.6ملین امریکی ڈالر تھی. اس تنازع کی وجہ سے پاکستان کو کیمیائی کھادوں کی سپلائی میں مشکل آسکتی ہے یا نا ممکن ہوسکتی ہے۔ کھاد کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے کسان کھاد کا استعمال کم کر دے گا جو مقامی فصلوں کی خرابی کا سبب بنے گئی جس کی وجہ سے فی ایکڑ پیداوار کم ہو جائے گی جو ملک میں اجناس کی قلت کا باعث بن سکتی ہے روز مرہ کی اشیاء کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے ملک کی معیشت مزید سکڑ جائے گی۔

ماضی میں پاکستان کے روس اور یوکرین دونوں کے ساتھ معمولی دو طرفہ اقتصادی تعلقات رہے ہیں. 2021ء میں روس کے ساتھ دوطرفہ تجارت کی مالیت 711 ملین ڈالر تھی جس میں روس کے ساتھ درآمدات کی مالیت 537 ملین ڈالر تھی۔ اسی طرح 2021ء میں یوکرین اور پاکستان کے مابین تجارت کی مالیت 800 ملین ڈالر تھی جس میں پاکستان نے 740 ملین ڈالر کی یوکرین سے درآمدات کی تھی۔ اس نتیجے میں, پاکستان کی گندم کی درآمد براہ راست بحران کا شکار ہو گئی. گزشتہ مالی برس میں پاکستان نے یوکرین سے کل 39 فیصد گندم درآمد کی تھی جس کی وجہ سے ملک میں گندم کی قلت ہونے سے ملک مزید مہنگائی کی جانب بڑھے گا اور اشیاء خوردونوش کی قیمتوں میں اضافے کا سبب بنے گئی.

روس یوکرین تنازع نے دنیا بھر کی معیشت کو متعدد طریقوں سے ہلا کر رکھ دیا ہے۔ امریکہ اور یورپ کی طرف سے روس پر عائد پابندیوں سے توانائی کی سپلائی میں خلل ڈالنے کا امکان ہے. جس سے توانائی کی قیمتں میں اضافہ ہوگا جو پہلے ہی سات سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکی ہیں. پاکستان جیسے ممالک کے لیے یہ بڑا دھچکا ہے جو تیل درآمد کرتے ہیں. تجزیہ کاروں کے مطابق, تیل کی قیمتوں میں 10-20 ڈالر فی بیرل اضافے سے ہمارے قومی ذخائر میں 1-2 بلین ڈالر کی کمی کا امکان ہے جس سے ملک میں قوت خرید مزید سکڑ جائے گئی.اگر یورپ اپنی توانائی کی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے روس سے ایل این جی کو تبدیل کرنے کا انتخاب کرتا ہے تو ایل این جی کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہوگا. یہ پاکستان کو متاثر کرسکتا ہے کیونکہ معیشت بجلی پیدا کرنے کے لئے ایل این جی پر انحصار کرتی ہے اس متوقع اضافے کے نتیجے میں بجلی کی مقامی قیمتوں میں اضافہ ہوگا جس سے ملک مزید مہنگائی کے دباؤ میں آجائے گا.
افراط زندگی کے بڑھتے ہوئے اخراجات کو پورا کرنے کے لئے روس یوکرین تنازع کے ممکنہ اثرات سے بچنے کے لئے حکومت کو چاہیے کہ مناسب اقدامات کریں. تیل, گیس, اجناس اور دیگر اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ ایک سنگین تشویش ہے. پاکستان میں افراط زد پہلے ہی 10 فیصد کے قریب دوسال کی بلند ترین سطح عبور کر چکا ہے. اس سے مہنگائی کا دباؤ مزید بڑھے گا اور صارفین کو بری طرح متاثر کرے گا. جس کے نتیجے میں غربت میں اضافہ ہوگا اور معاشی پالیسوں میں تعطل پیدا ہوگا.اگرچہ روس اور یوکرین کے درمیان جغرافیائی گشیدگی پاکستان سے ہزاروں میل دور ہے لیکن اس کے معاشی اثرات پاکستان کی جغرافیائی حدود میں دیکھنے کو ملے گئے.
صحت، خوراک اور ماحولیات جیسے مختلف ذرائع سے آنے والے نئے خطرات تمام ریاستوں کو لاتعلقی سے نقصان پہنچاتے ہیں۔ کوئی بھی ریاست اپنے آپ کو دوسروں سے الگ نہیں رکھ سکتی اور اس لیے ان نئے خطرات کے خلاف جدوجہد میں عالمی تعاون کی ضرورت ہے۔ وبائی مرض نے ہمیں دکھایا ہے کہ ریاستیں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کیے بغیر خطرے سے چھٹکارا حاصل نہیں کرسکتی ہیں۔ بصورت دیگر، جیسا کہ ہم آج دیکھ رہے ہیں، ترقی یافتہ ریاستیں پسماندہ ممالک سے وائرس کو ختم کیے بغیر کسی وبائی مرض پر قابو نہیں پا سکتیں۔یوکرائن روس تنازع پوری دنیا اپنی سانسیں روکے ہوئے ہے اور جس کے اثرات پوری دنیا میں دیکھنے کو ملے گئے لیکن اس بات کی توقع نہیں کی جا سکتی ہے کہ دونوں فریق ایک بڑے تنازع کا آغاز کریں گے کیونکہ بہت کچھ داؤ پر لگا ہوا ہے۔آج کے موجودہ بین الاقوامی نظام میں ایک قومی ریاست آسانی سے کسی دوسری ریاست کے خلاف جنگ شروع نہیں کرسکتی کیونکہ اس کا خاتمہ حملہ آورسمیت پوری دنیا کی تباہی کے ساتھ ہوگا اس لیے تمام اقوام عالمی جنگوں سے بچنے کو ترجیح دیتی ہیں.

Leave a Reply

Your email address will not be published.