مقدمہ؛ بحالی طلبہ یونین

ایک جمہوری ریاست کا آئین اس کے عوام کی منشا کا اظہار ہوتا ہے۔ جس میں ریاست کو ایک منظم انداز سے چلانے کے اصول و ضوابط طے کیے جاتے ہیں۔ اگر آئین سے جداگانہ کوئی اقدام اٹھایا جائے تو اس سے معاشرے کا نظام شدید متاثر ہوتا ہے۔ جس سے شہریوں کی فلاح و بہبود کا سلسلہ رک جاتا ہے جوکہ ریاست کے قیام کی اولین دلیل ہے۔

اس وجہ سے بطور شہری آئین کی حفاظت کرنا اور اس پر عمل درآمد کروانا ہماری اولین ذمہ داری ہے تاکہ ریاست طے شدہ ذمہ داری سرانجام دیتی رہے۔ مگر ہمارے ملک میں آئین میں دیے گئے شہریوں کے بنیادی حقوق کی مسلسل خلاف ورزی ہورہی ہے۔ جس سے معاشرے میں ایک ہیجان کی سی کیفیت بن رہی ہے جوکہ ایک فلاحی معاشرے کے لیے سنگین خطرہ ہے۔

مثلا قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے انجمن سازی کرنا آئین پاکستان میں شہریوں کے بنیادی حقوق کے طور پر تسلیم کیا گیا ہے اور آئین اس کی ضمانت مہیا کرتا ہے۔ آئین کا آرٹیکل 17 جو کہ انجمن سازی سے متعلق ہے میں واضح درج ہے کہ
” پاکستان کی حاکمیت اعلی یا سالمیت، امن عامہ یا اخلاق کے مفاد میں قانون کے ذریعے عائد کردہ معقول پابندیوں کے تابع، ہر شہری کو انجمنیں یا یونینیں بنانے کا حق حاصل ہے”

اس سے محکوم و مظلوم طبقے سے تعلق رکھنے والے شہری اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے منظم ہوکر جدوجہد کرتے ہیں۔ جس سے عوامی مسائل پر تحریکیں جنم لیتی ہیں اور ریاست کا انتظام چند ہاتھوں میں سمٹتا نہیں ہے۔ اور اس طرح جمہوری عمل کا تسلسل برقرار رہتا ہے۔ دنیا میں جتنی بڑی تحریکیں جنم لیں ان کے پس پردہ عمل عوام کی انجمن سازی تھی۔ جیسے آج انڈیا کے کسان اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے منظم انداز میں مودی حکومت کے نجی شبعے کو نوازے جانے کے خلاف بغیر کسی سیاسی جماعت کی واضح پشت پناہی کے اتنی بڑی تحریک چلائے ہوئے ہیں۔ یہ یونین سازی کا ہی نتیجہ ہے۔ جہاں ریاست شہریوں کے منظم ہونے سے خوف زدہ ہو وہاں شہریوں کو سمجھ جانا چاہیے کہ ان کے حقوق کو غضب کرکے ان کے وسائل پر مفاد پرست گروہ کا قبضہ ہے۔

مگر دہائیوں سے خوف کی ماری اشرافیہ نے پاکستان میں طلبہ سے انجمن سازی کا آئینی حق چھینا ہوا ہے۔ جس سے طلبہ اپنے مفادات کا تحفظ کرنے میں مکمل طور پر ناکام ہوگئے ہیں۔ اور ریاست کی تعلیم دشمن پالیسیوں کے سامنے بے بس نظر آ رہے ہیں۔

کرونا کی وبا کے دوران سہولیات کی عدم موجودگی کی وجہ سے آن لائن سسٹم کے نام پر طلبہ کا استحصال کیا گیا مگر یونین سازی کی عدم موجودگی میں طلبہ کی آواز موثر ثابت نہ ہوسکی۔ آج تعلیم کا نظام انتہائی غیر معیاری اور متوسط طبقے سے دور ہوگیا ہے۔ مزید؛ یونین سازی پر پابندی جیسے غیر آئینی اقدام سے نوجوان سیاسی عمل سے مکمل طور پر لاتعلق ہے جس سے سیاست چند لوگوں کا کھیل بن گئی ہے۔ کسی بھی تحریک میں نوجوان کا کردار صف اول کا ہوتا ہے۔ بنگلہ عوام کی آزادی کی جدوجہد کا مرکز ڈھاکہ یونیورسٹی تھی۔ امریکہ میں پولیس کے ہاتھوں ایک سیاہ فام شہری کی موت کے خلاف بلیک لایوز میٹر (سیاہ فام زندگیاں اہم ہیں) تحریک نے جنم لیا جس نے نسلی امتیاز کے خلاف پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ اس بنیادی آئینی حق کے بغیر شہری حکومت کے سامنے بے بس بن جاتے ہیں جس سے غیر جمہوری قوتوں کو فائدہ پہنچتا ہے۔ جمہوریت تب تک کسی ملک میں پنپ ہی نہیں سکتی جب تک اس ملک کے نوجوان میں سیاسی شعور کی آبیاری نا کی جائے۔
سیاسی شعور کا معاملہ انجمن سازی کی آزادی کے ساتھ منسلک ہے۔ جس ملک میں جس قدر انجمن سازی کی آزادی ہو اس قدر ہی وہاں جمہوری رویوں کے پنپنا شروع کرتے ہیں۔

طلبہ یونین کی بحالی جو کہ عین آئینی حق ہے، سے ملک پاکستان میں جمہوریت کو فروغ حاصل ہوگا جس سے اقتدار چند ہاتھوں میں سمیٹنے کی بجائے عوام کے پاس جائے گا۔ نوجوانوں میں سیاسی بانچھ پن کا خاتمہ ہوگا جس سے کوئی غیر جمہوری قدم ناممکن ہوکر رہ جائے گا اور عوام کی حاکمیت قائم ہونے میں مدد ملے گی۔

تحریر: احسان اللہ

Leave a Reply

Your email address will not be published.