غازی یونیورسٹی: بلوچ طلبہ اور لیکچرار کے خلاف سخت کاروائی

 

 

 

 

 

رپورٹ: لائبہ علی

گزشتہ روز غازی یونیورسٹی، ڈیرہ غازی خان نے آٹھ بلوچ طلبہ اور ایک ٹیچر کو یونیورسٹی سے نکال کر ان پر بھاری جرمانہ عائد کر دیا ہے-

جمعے کو غازی یونیورسٹی کی جانب سے جاری نوٹیفیکیشن کے مطابق دو خواتین سٹوڈنٹس سمیت چھ بلوچ طلبہ کو جامعہ کے ڈسپلن و قواعد کے قوانین کی خلاف ورزی اور یونیورسٹی سے باہر کے افراد کے ساتھ ملک کر تخریبی کارروایاں کرنے کے الزام میں دو سال کے لیے یونیورسٹی سے نکالنے، تیس ہزار روپے جرمانے اور یونیورسٹی کی حدود میں داخلے پر پابندی کی سزائیں دی گئیں ہیں۔

اس کے علاوہ یونیورسٹی میں پولیٹیکل سائنس پڑھانے والے ایک بلوچ استاد رفیق قیصرانی کو مبینہ تخریبی سرگرمیوں میں حصہ لینے اور سوشل میڈیا پر یونیورسٹی کا تشخص خراب کرنے کے الزام میں نوکری سے نکال دیا گیا ہے۔

بلوچ طلبہ کے مطابق انتظامیہ کا یہ ردعمل ان اسٹڈی سرکل کرنے پر آیا- غازی یونیورسٹی کے ایک طالب علم کے مطابق بلوچ سٹوڈنٹ ایکشن کمیٹی کی جانب سے تعلیم کی اہمیت کے اوپر سٹڈی سرکل جاری تھا جس کو ایک یونیورسٹی کے استاد نے روک کر بلوچ سٹوڈنٹس کو ہراساں کرنا شروع کر دیا- جب طلبہ نے اس بات پر احتجاج کیا تو ان پر ایف آئی آر بھی درج کی گئی اور یونیورسٹی سے نکالنے کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا-

اس حوالے سے پروگریسو سٹوڈنٹس کولیکٹو کے صدر قیصر جاوید کا کہنا ہے کہ یہ کاروائی اس منظم اور ادارہ جاتی رویے کا حصہ ہے جو بلوچ طلبہ کے ساتھ تعلیمی اداروں کی انتظامیہ کی جانب سے روا رکھا جاتا ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ہم کسی صورت بلوچ طلبہ کے ساتھ یہ سلوک یا ان کی پروفائلنگ برداشت نہیں کریں گے۔ اس سلسلے میں ہم ہمیشہ بلوچ طلبہ کے ساتھ کھڑے رہے ہیں اور کھڑے رہیں گے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.