Written by • 11:23 PM• News Reports, Urdu & Other local languages

کراچی میں بلوچ طلبہ کی رہائی کے لیے احتجاج کرنے والے لواحقین پر پولیس نے دھاوا بول دیا

ابھی کچھ دیر پہلے کراچی پریس کلب کے سامنے بلوچ طلبہ کی بازیابی کے لیے احتجاج کرنے والے لواحقین پر پولیس کی جانب سے تشدد اور گرفتاریاں کی گئی ہیں۔

رپورٹ: عمار شہزاد

ابھی کچھ دیر پہلے کراچی پریس کلب کے سامنے بلوچ طلبہ کی بازیابی کے لیے احتجاج کرنے والے لواحقین پر پولیس کی جانب سے تشدد اور گرفتاریاں کی گئی ہیں۔

تفصیلات کے مطابق مورخہ 7 جون کو کراچی یونیورسٹی سے دو بلوچ طلبہ دودا بلوچ اور گمشاد بلوچ کو جبری طور پر گمشدہ کردیا گیا تھا، جس کو لے کر لواحقین کی جانب سے کراچی پریس کلب کے سامنے احتجاجی کیمپ قائم کیا گیا تھا۔جہاں پولیس کی جانب سے لواحقین پر بیہمانہ تشدد کیا گیا جبکہ مظاہرین کی گرفتاریاں بھی کی گئی ہیں۔

طلبہ حقوق کی تنظیم پروگریسو سٹوڈنٹس کولیکٹو کی جنرل سیکرٹری ورثہ پیرزادو نے ہم سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ بلوچ طلبہ کی رہائی کے لیے احتجاج کرنے والے لواحقین پر پولیس گردی کی ہم پرزور مذمت کرتے ہیں اور مطالبہ کرتے ہیں کہ انھیں فی الفور رہا کیا جائے اور ریاستی غنڈہ گردی بند کی جائے۔

Author

  • News Desk

    The Students' Herald News Desk focuses on reporting the latest news regarding student politics and campus updates to you.

    The News Desk can be reached at admin@thestudentsherald.com

Visited 1 times, 1 visit(s) today
Last modified: June 18, 2022
Close Search Window
↑
Close