قراقرم یونیورسٹی ہراسانی کیس: طلبہ نے انکوائری کمیٹی کی رپورٹ کو مسترد کر دیا

رپورٹ: حارث احمد

مورخہ 6 جنوری 2020 کو قراقرم یونیورسٹی کی تشکیل کردہ کمیٹی نے ہراسانی کیس کی رپورٹ جاری کردی۔ صرف ایک شکایت پر کارروائی کی گئی جس کے نتیجے میں ملوث شخص کو باعزت بری کر کے اس کی کرسی تبدیل کر دی گئی۔ طلبہ نے اس رپورٹ کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ کل تین طالبات کی جانب درخواستیں دی گئی تھیں. لیکن صرف ایک درخواست زیر غور لائی گئی اور اس پر بھی غیر منصفانہ فیصلہ دیا گیا۔ طلبہ نے فوری طور پر نئی کمیٹی بنانے اور اس میں طلبہ کی شمولیت کر کے شفاف تحقیقات کا مطالبہ کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ انصاف نہ ملنے کی صورت میں بھرپور احتجاج کیا جائے گس جس کی مکمل ذمہ داری انتظامیہ پر ہوگی۔ اس معاملے پر پروگریسیو سٹوڈنٹس کولیکٹیو کی ترجمان کلثوم فاطمہ نے اپنا موقف پیش کرتے ہوئے کہا کہ ہم قراقرم یونیورسٹی کے طلبہ کے مطالبات کی حمایت کرتے ہیں۔ یونیورسٹی انتظامیہ نے احتجاج کے باوجود کیس میں نامزد افراد کی پشت پناہی کی جو انتہائی ناقابل قبول عمل ہے۔ اگر کیس کی شفاف تحقیقات نہ ہوئیں تو ہم ملک بھر کے طلبہ متحد ہو کر احتجاج کریں گے اور پھر مطالبہ وی سی کی معزولی کا ہوگا جو ان عناصر کی پشت پناہی کر رہا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.