سیکیورٹی اداروں کے اختیارات محدود کیے جائیں: پروگریسو سٹوڈنٹس کولیکٹو

رپورٹ: عنایت خان پیرعلی زئ

ملک بھر میں اس بات پر غم و غصے کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ انسداد دہشتگری اسکواڈ کے اہلکاروں نے اسلام آباد کے 21 سالہ نوجوان اسامہ ندیم کو سرینگر ہائی وے پر گولیاں مار کر سرعام قتل کر دیا۔

تفصیلات کے مطابق جمعے کو انسداد دہشتگری اسکواڈ نے کالی شیشوں والی ایک گاڑی دیکھی اور اسے رکنے کو کہا۔ جب وہ نہ رکی، تو پولیس نے گاڑی پر فائرنگ کر دی۔ جس سے گاڑی میں موجود نوجوان اسامہ ستی انتقال کر گیا۔

کچھ دیر بعد جب اس نوجوان کی لاش کو پوسٹ مارٹم کے لئے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنس (پمز) لے جایا گیا۔ پمز کے ترجمان وقاص خواجہ کے مطابق ، رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ اسامہ کے جسم پر چھ گولیاں ان کے سینے ، کمر اور سر میں لگی ہے۔ وقاص خواجہ نے مزید کہا کہ گولیاں سامنے سے چلائی گئیں ہیں۔

مقتول کے والد نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ان کے بیٹے نے انہیں گزشتہ واقعے کے بارے میں بتایا جس میں اس نے کچھ پولیس اہلکاروں سے شدید تبادلہ خیال کیا تھا جس پر اہلکاروں نے اسے سنگین نتائج کی دھمکی دی تھی۔

انہوں نے بتایا کہ واقعے کی رات پولیس مبینہ طور پر اس کی کار کے پیچھے گئی اور پھر اسے گولیاں مار کر قتل دیا۔

ملک بھر کی طلبہ اور دوسری انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے واقع کی مذمت کا سلسلہ جاری ہے۔ اس حوالے سے کنیکٹ دی ڈسکنیکٹڈ کے چیئرمین اور سٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی کے مرکزی کنوینیر مزمل خان نے’دی سٹوڈنٹس ہیرلڈ ‘ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ واقعہ انتہائی افسوس ناک ہے اور اس سال کئی طالب علموں کے ساتھ سکیورٹی اداروں کی جانب سے یہ سلوک کیا گیا ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ سرکاری گولیوں سے بے گناہ نوجوان کب تک شہید ہوتے رہیں گے۔ ریاست مدینہ میں اسامہ ندیم، نقیب اللہ محسود، حیات بلوچ، مشال خان، سرفراز شاہ، اور واقعہ ساہیوال کیلئے عوام انصاف کے منتظر ہیں۔

پروگریسیو سٹوڈنٹس کولیکٹو کے صدر محسن ابدالی سے جب ہم نے اس حوالے سے بات کی تو انہوں نے سخت الفاظ میں اس واقعے کی مذمت کی۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ پروگریسو سٹوڈنٹس کولیکٹو اس ہلاکت کی شدید مذمت کرتی ہے اور ہمارا مطالبہ ہے کہ نہ صرف اس سانحہ میں ملوث اہلکاروں کے خلاف کاروائی کی جائے بلکہ سکیورٹی اداروں کے اختیارات بھی محدود کئے جائیں تاکہ مستقبل میں اس طرح کے واقعات سے بچا جا سکے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ بروز سوموار چار بجے پریس کلب لاہور کے سامنے اس سانحہ کے خلاف احتجاج کیا جائے گا۔ پروگریسو سٹوڈنٹس کولیکٹو تمام شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد کو اس میں شرکت کی درخواست کرتی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.