افغان جنگ: جیت اور ہار کی تعریف بدلنے کی ضرورت

اداریہ

افغان جنگ: جیت اور ہار کی تعریف بدلنے کی ضرورت

کابل نسبتا  سامراجی حمایت یافتہ لبرل گروہ کے قبضے سے نکل کر طالبان نامی انتہا پسند مذہبی گروہ کے قبضے میں جا چکا ہے۔ امریکہ کی جانب سے افغانستان پر بیس سال سے مسلط جنگ میں ہزاروں امریکی فوجی اور لاکھوں افغان ہلاک ہوئے، بڑے پیمانے پر یہ موضوع زیر بحث ہے کہ امریکہ اپنے مقاصد میں کامیاب رہا یا ناکام ہوا۔ البتہ اس بحث میں افسوسناک پہلو یہ ہے کہ اس میں نیٹو اور طالبان دونوں جانب جنسی زیادتیوں کا شکار ہونے والی خواتین، آسٹریلوی فوجیوں سے کھیل ہی کھیل میں قتل ہونے والے عام افغانوں اور اس جنگ میں شریک فوجیوں کی ذہنی حالت، مسلمانوں میں نہ صرف امریکیوں بلکہ تمام مغرب کے خلاف بڑھنے والی نفرت اور اس کے نتیجے میں مختلف قوموں کے درمیان بڑھتی ہوئی نفرت کو شامل نہیں کیا جا رہا۔ اگر ان چیزوں کو بھی جنگ کے نتائج میں شامل کیا جائے تو دونوں فریقین کے درمیان جنگ کی کامیابی کی خوشی منانے کا بھوت اتر جائے گا۔ تاہم وار انڈسٹری کے ہوتے ہوئے یہ ناممکن سے کم نہیں۔ 

طالبان کے آنے کے بعد انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں مزید بڑھ گئی ہیں۔ ادارہ جاتی سطح پر آزادی اظہار کو دبانے اور خواتین کو عوامی زندگی سے بے دخل کرنے جیسے اقدامات جاری ہیں۔ ایسے وقت میں عالمی برادری پر لازم ہے کہ ان خلاف ورزیوں کو روکنے کے لیے طالبان پر دباو ڈالے۔ اور کئی ممالک ایسا کر بھی رہے ہیں۔ البتہ یہی ممالک دوسرے کئی عرب ممالک، انڈیا اور کئی دوسرے ممالک کی آمرانہ اور انسانی حقوق کے خلاف موجود پالیسیوں پر خاموش رہتے ہیں۔ اعتراض اس بات پر نہیں کہ وہ وہاں آواز نہیں اٹھاتے تو یہاں کیوں اٹھا رہے ہیں۔ بلکہ مسئلہ یہ ہے کہ وہ ان دوسرے ممالک کی انسانی حقوق کے خلاف سرگرمیوں پر اس لیے آواز نہیں اٹھاتے کیونکہ ان کے مفاد ان ممالک سے جڑے ہوئے ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ جب ان ممالک کے مفاد طالبان سے جڑیں گے تو یہ ان کے مظالم پر بھی آواز اٹھانا بند کر دیں گے۔ ایسی صورت میں یہ ذمہ داری ہر ملک کے عوام پر عائد ہوتی ہے کہ وہ احتجاج کے ذریعے اپنی ریاستوں پر دباو ڈالے کہ وہ طالبان کو انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں بند کرنے پر قائل کریں۔ مزید یہ کہ ہمیشہ طاقتور ممالک پروپیگنڈے کے ذریعے دوسرے ممالک میں ہونے والی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی بات کر کے اپنے جرائم کو چھپانے کی کوشش کرتا ہے۔ اس سارے معاملے امریکہ کا کردار بھی یہی ہے۔ اس لیے لوگوں کو نہ صرف طالبان بلکہ امریکہ کی جانب سےافغانستان میں کیے جانے والے جنگی جرائم کی تحقیقات کا بھی مطالبہ کرنا چاہیے۔ 

یہ مظالم تو افغان عوام تک محدود ہیں البتہ آس پاس کے ممالک میں بھی کابل پر طالبان کے قبضے کے کئی فوری اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ جن میں سب سے اہم انتہا پسند مذہبی گروہوں کا پر تشدد طریقوں سے اقتدار پر قبضے کے یقین میں اضافہ ہونا ہے۔ پاکستان میں تحریک طالبان پاکستان سمیت کئی انتہا پسند مذہبی گروہ سرعام ریلیاں نکال رہے ہیں، نہ صرف عوام بلکہ ملک کے مختلف علاقوں میں عام فوجیوں پر بھی حملوں میں اضافہ ہو گیا ہے۔ 

پاکستان کو مستقبل قریب میں ایک اور اہم مسئلے کا اضافہ بھی ہو سکتا ہے جو اپنے ہی پشتون شہریوں کی جانب سے نفرت ہے۔ دراصل بہت سے عام افغان طالبان کے خوف سے اپنا ملک چھوڑ کر پاکستان ہجرت کی کوشش کر رہے ہیں لیکن پاکستانی ریاست کی جانب سے انھیں پاکستان داخلے کی اجازت نہیں دی جا رہی۔ گزشتہ ہفتے چمن بارڈ سے کئی افغان خاندانوں کو واپس بھیجنے پر پاکستانی پشتونوں کی جانب سے شدید ردعمل کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ دراصل یہ پشتون نہ صرف قومیت کی بنیاد پر ایک ہیں بلکہ بارڈر کے قریب دونوں جانب موجود افراد کی آپس میں قریبی رشتہ داریاں بھی ہیں۔ اس لیے مہاجرین کی پابندی کو برقرار رکھنا خطرناک ہو سکتا ہے۔ 40 سال سے افغان جنگ میں حصہ دار کے طور بھی اصولی طور پر پاکستان کو افغان مہاجرین کو پاکستان میں داخل ہونے کی اجازت دینی چاہیے۔ 

Leave a Reply

Your email address will not be published.