اداریہ: ہزارہ قتل عام کے محرکات

اداریہ: ہزارہ قتل عام کے محرکات

گزشتہ ماہ بلوچستان کے علاقہ بولان میں ہزارہ کمیونٹی سے تعلق رکھنے والے 11 مزدوروں کے گلے کاٹ کر قتل کر دیا گیا۔ ایک انتہاپسند مذہبی گروہ نے قتل کی ذمہ داری قبول کی اور وجہ ان کا شیعہ ہونا بتایا۔

واقعہ پر وزیراعظم نے انتہائی ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کیا، جس کی وجہ سے ملک بھر میں عوام نے، خاص طور پر شیعہ برادری نے دھرنے دے دیے۔ ایک ایسے وقت میں جب حکومت پہلے ہی اپوزیشن اور اپنے ساتھیوں کی ناراضگی کی وجہ سے مشکل میں ہو، ملک اتنے بڑے طبقہ کے جذبات مجروح کرنا وزیراعظم کی اہلیت کی عکاسی ہے۔ اس لیے واقعہ پر وزیراعظم کے رویے پر مزید بات کرنا واقعہ کے اصل محرکات سے توجہ ہٹانے کے مترادف ہے۔

ہزارہ برادری پر برسوں سے جاری اس تشدد کا بنیادی محرک مذہبی انتہا پسندی ہے۔ مذہبی انتہا پسندی کوئی انوکھی چیز نہیں ہر ملک میں مذہبی انتہا پسند سوچ موجود ہوتی ہے۔ یہ عام بات ہے البتہ اس سوچ سے نبٹنے کے لیے ریاست کا ردعمل اہم ہے۔

ہزارہ برادری پر جاری تشدد کے اس عمل میں تشدد کی دو قسمیں شامل ہیں ایک جسمانی تشدد جو کہ ہمیں نظر آ رہا ہے اور دوسرا وہ تشدد ہے جو کہ مسلسل ہزارہ برادری کے خلاف انتہا پسند سوچ کے پرچار کی صورت جاری ہے۔ جو کہ مذہبی انتہا پسند اپنی تقریروں اور تحریروں میں کرتے ہیں۔

پاکستانی ریاست کا دعوی ہے کہ انھوں نے دہشت گردی کو ختم کر دیا ہے۔ اور ہزارہ برادری کے ساتھ پیش آنے والے ذمہ داروں کا محاصرہ جاری ہے۔

لیکن درحقیقت ریاست ان دونوں طرح کے تشدد سے نبٹنے میں شعوری اور لاشعوری طور پر ناکام رہی ہے۔ ریاست کی پالیسیاں تضادات کا مجموعہ ہے۔

دہشت گردی پر زیرو ٹالرنس کی پالیسی کے دعوے تو کیے جاتے ہیں مگر ایسے عناصر کے ساتھ نرم رویہ بھی روا رکھا جاتا ہے۔
آرمی پبلک سکول پشاور سانحہ پر بڑی بڑی پالیسیاں بنائی گئیں۔ کئی لوگوں کو کچلا بھی گیا۔ لیکن اس سانحہ کے حقیقی ذمہ دار احسان اللہ محسود کو پکڑ کر چھوڑ دیا گیا۔

دوسری طرف آئین و نصاب میں بھی آئے دن ایسا مواد شامل کیا جا رہا ہے جو انتہا پسندی اور مذہبی تفریق کا سبب بنتا ہے۔ جیسا کہ چند ماہ قبل پنجاب حکومت نے ایک قانون پاس کیا جس میں کچھ مذہبی شخصیات پر تنقید پر پابندی لگائی گئی یہ جانتے ہوئے بھی کہ شعیہ مسلمانوں کو ان شخصیات سے اختلاف ہے جس کی وجہ سے یہ قانون ان کے لیے تکلیف کا باعث بنے گا۔ اور پھر وہی ہوا، جگہ جگہ احتجاج اور کئی جگہ شیعہ سنی فسادات دیکھنے میں آئے۔

نیز ہزارہ برادری پاکستان کا حصہ ہے وہ بھی پاکستان کے برابر کے شہری ہیں لیکن ہم قومی ثقافت میں ان کی نمائندگی نہیں دیکھتے جس کی وجہ سے ان کو تو بیشتر لوگ اپنے ملک کا شہری ہی نہیں سمجھتے پنجاب میں پڑھنے آنے والے اکثر ہزارہ طلبہ کو چینی یا کسی اور ملک کا باشندہ سمجھا جاتا ہے۔

ریاست و حکومت کے اس طرح کے دوہرے رویے عوام میں تقسیم کا باعث بنتے ہیں جس کی وجہ سے ہزارہ قتل عام جیسے واقعات سامنے آتے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.