آئینے سے قلم تک

Manha Haider

 

کبھی زندگی کے ورق پلٹ کر ماضی میں جھانکوں تو بچپن کی یاد سے جڑا ایک نام”وقار خان” بہت شدت سے یاد آتا ہے ۔ مردان کے پرائیویٹ سکول میں نرسری میں وہ پہلا دوست جس نے سکول کے پہلے دن میرے لئے جگہ بنائی اور سارا دن میرے ساتھ رہ کر مجھے سکول کے راستے اور ضابطے سمجھاتا رہا اور پھر جماعت ہشتم تک ہر مشکل ،ہر کارستانی اور ہر ڈانٹ میں برابر کا حصے دار رہا ۔ہم ایک ہی کالونی میں رہتے اور جب کونڈوں کی نیاز پر وقار کی دادی مٹھائی لے کر ہمارے گھر آئیں اور “خوشخبری ” سنائی کہ وقار افغانستان اپنے چچا کے پاس مجاہد بننے جارہا ہے تب مجھے جو واحد خوف آیا وہ یہ تھا کہ سکول کی زندگی ایک سائے جیسے دوست کے بغیر کیسے گزرے گی تب تک  یہ خبرنہ تھی کہ جہاد ،مجاہدین یا طالبان کیا ہیں اور وقار کے بارے میں تو یہ تصور بھی ممکن نہ تھا کہ وہ اسلحہ یا بندوق ہاتھ میں اٹھا کر کسی کو مار بھی سکے گا،کیونکہ اس کا دل اسقدر موم تھا کہ وہ گھونسلے سے گری چڑیا کے بچے کو بچانے کی پوری کوشش کرتا اور اگر وہ مرجاتا تو کئی دن اس کی قبر بنا کر روتا رہتا ، کلاس کے لڑکے اسکا مذاق اڑاتے کہ لڑکیوں کے ساتھ دوستیاں کرکے وہ بھی لڑکیوں جیسا ڈرپوک ہے اور انہی خبروں کی وجہ سے اسکی دادی نے اسکی تربیت کو چچا کے سپرد کردیا۔ خیر وقار افغانستان چلا گیا اور میں اگلی کلاس میں کچھ عرصے بعد 9/11 ہوا اور دہشتگردی کے خلاف جنگ وغیرہ کا آغاز ہوا اور جب  ایف ایس سی پارٹ ون کے بعد اپنی شادی کی دعوت کیلئے اپنے واحد دوست کے گھر دعوت دینے گئی تو پتہ چلا کہ وقار افغانستان میں “وار آن ٹیرر” کا شکار ہوگیا ہے۔ یہ خبر جنگوں اور ہتھیاروں سے باقاعدہ بیزاری کی وجہ بنی ۔ اس سے پہلے اپنے والد سے پشاور میں 92کے شیعہ سنی فسادات کا تذکرہ اور بابا کے کاروبار کی تباہی کا سن کر بھی حیرت ہوتی تھی کہ ایسا کیونکر ممکن ہے کہ بلوہ کسی عمارت کو شناخت کی وجہ سے ٹارگٹ کرکے آگ لگادے پر تب کیا خبر تھی کہ بابا کی باتیں کہانیاں نہیں اس ملک کی سچی حقیقتیں ہیں۔

شادی کے بعد زندگی میں جہاں بہت تبدیلیاں آئیں وہاں ایک پابندی یہ بھی تھی کہ تعلیم اسی صورت جاری رکھنے کی اجازت ملے گی اگر میں ساتھ میں سیلف گرومنگ کروں اور ٹوم بوائے والے حلیے سے ایک روایتی بیوی یا بہو کے روپ میں دنیا کے سامنے آؤں ۔پڑھنے کیلئے یہ شرط مانی اور پفوا سے گرومنگ ، کرافٹنگ کے ساتھ پشاور یورنیورسٹی سے تعلیم بھی جاری رکھی۔اس دوران پشاور کے حالات بھی عجیب ہی رہے . پفوا سے باقاعدہ سرٹیفیکیٹس اور ڈپلومے ملنے کے بعد  شوہر نامدار کی خواہش اور حکم کے مطابق گرومنگ اکیڈمی کا آغاز کیا ،جس کا ڈھانچہ ایک بیوٹی سیلون جیسا ہی تھا جہاں کچھ لڑکیاں سکیھنے آتیں اور کچھ لوگ سروسز کیلئے۔ سن دو ہزار سات کو اپنی فیملی کے ساتھ آٹھ محرم کے جلوس میں موجود تھی ، وہ دہشتگردی ،بم دھماکوں اور طالبانائزشن کا دور عروج تھا۔ جلوسوں میں شرکت بھی لازمی تھی اور ان سب عوامل کا ڈر بھی اپنی جگہ تھا ۔ خیر وردی میں ملبوس انسپکٹر خان رازق کو جب جلوس کے اولین دستوں میں دیکھا تو ایک اطمینان محسوس ہوا کہ پشاور پولیس ہر بار کیطرح اس بار بھی ایام عزا میں علاقے کا امن قائم رکھے گی پر یہ خام خیالی محض چند لمحوں کی تھی ،کچھ دیر میں زمین کسی بھونچال کی صورت لرزی ،ایک زوردار چنگھاڑ ،دھواں چیخیں اور غنودگی ۔اوسان بحال ہوئے تو معلوم ہوا کہ جلوس ٹارگٹ ہوا ہے خان رازق اور ملک سعد سی سی پی او پشاور سمیت اپنی برادری کے کتنے لوگ اس سانحے میں لقمہ اجل بن گئے ہیں۔ اسکے بعد کتنی راتیں نیندیں حرام رہیں شمار ممکن نہیں، پھر ملک جرار ایڈوکیٹ ،ڈاکٹر شاہنواز ، آغا میر ،ثمر عباس ،دادو بادشاہ اور کتنے ہی نام جو کہ گھر ،برادری کا حصہ تھے وہ ٹارگٹ کرکے مارے گئے ۔جب آگ اپنے گھر پہنچ جائے اور جنازے آنگن سے اٹھنے لگیں ،تب انسان یہ سوچنے پر مجبور ہوتا ہے کہ کب تک ان قتلوں کو شہادت کہہ کر صبر کے گھونٹ پیئں جائیں اور اس تمام نفرت اور تعصب کے بیجوں کو کیسے جڑ سے اکھاڑا جائے ، دل ایک ہی جواب دیتا کہ “اگلی نسل کو نفرت کے پاٹ نہ پڑھائے جائیں کوئی محبتوں کا نصاب تشکیل دیا جائے ،کچھ ایسے راہنما یا رضاکار سامنے آئیں جو خون کی اس ہولی کو روکنے کی کچھ سکت اور جذبہ رکھتے ہوں” پر اب بھی میری گرومنگ اکیڈمی ویسے ہی جاری تھی اوپرہر دن کے اختتام پر میں میک اپ برشز کو اپنی جگہ واپس رکھ کر آئینے میں خود سے سوال ضرور کرتی کہ “تم صرف انسانوں کے ظاہر پہ محنت کررہی ہو تن اجلے اور من میلے ہیں دنیا کے ، وہ رنگ و روغن جو ایک بار پانی کی زد میں آئے تو تمہارے ہنر کی کوئی رمق ان چہروں پر باقی نہیں بچتی ۔۔۔ کیا تم اس زندگی سے خوش ہو اس کام سے مطمئن ہو؟اور اکثر کسی بم بلاسٹ کی آواز مجھے اس سوچ سے باہر نکال لاتی ۔ کبھی پشاور چرچ کی شفاف دیوار پر خون کے چھینٹے رات کو سونے نہ دیتے تو کبھی مینابازار کے بلاسٹ سے اپنے گھر کے ٹوٹے اور بکھرے شیشے انگلیوں کی پوروں کو زخمی کرتے ہوئے دماغ میں ٹائم بم کی ٹک ٹک شروع کردیتے کہ اب اگلی باری کس کی ہے۔ عجیب وحشت اور خوف کا دور تھا صبح جب گھر سے مرد رزق کمانے نکلتے تو کتنی دعاؤں اور تسبیحات کے حصار میں جاتے۔ دن گزرتے رہے اور سولہ دسمبر دو ہزار چودہ کا وہ دن آیا جس نے مجھ سمیت کتنے انسانوں کو جیتے جی مار دیا۔ دوپہرگیارہ بجے پشاور شہر کی لائٹ غائب ہوئی اور کچھ دیر بعد گھر سے بالکل ملحقہ ایل۔ آر۔ ایچ ہسپتال سے ایمبولینسوں کی آوازیں آنا شروع ہوئیں ،بم دھماکوں کیوجہ سے صوبے بھر سے زخمی یہاں لائے جاتے تھے ، موبائل سگنلز غائب تھے اور پی ٹی سی ایل پہ کال آئی اور پوچھا گیا آج بچے سکول گئے ہیں ؟ جواب دیا جی۔ پھر میری جیٹھانی کے بچوں کے متعلق سوال ہوا کہ وہ تو اس علاقے کے سکول میں پڑھتے ہیں کیاوہ بھی گئے ہیں ، جواب ہاں میں دے کر سوالوں کی وجہ پوچھیں تو کہنے والے نے کہا کہ سکول پہ طالبان کا حملہ ہوا ہے۔  اب جیٹھانی کی حالت بھی سامنے تھی اور دوسری آنے والی کالز سے یہ بھی کہا گیا کہ جتنی جلدی ہو اپنے اپنے بچے سکولوں سے واپس لے آئیں ، ہمارے گھر میں موجود چاروں مائیں کیسی ہیبت اور پریشانی میں اپنے اپنے بچوں کو سکولوں سے لینے گئیں اسکا احوال بیان کرنے کی سکت نہیں۔خیر اپنے گھر کے تمام بچے صیح سلامت گھر واپس آئے۔لائٹ اور سگنلز واپس آنے پر اے۔پی ۔ایس اٹیک سے متعلق بریکنگ نیوز چیختے چلاتے والدین ، باہر ایمبولینسوں کی آوازیں اور گھر اور باہر ہر طرف روتی ہوئی مائیں ۔ اس دن اور رات گھر پہ کسی نے کھانا نہ کھایا ۔اپنے گھر کے مردوں کو ہچکیوں کے ساتھ روتے ہوئے دیکھا ۔اگلے دن سکول کے باہر اپنے جیسے دل شکستہ لوگوں کا مجمعہ اور عمارت کے اندر معصوموں کے بیگز ، جوتے اور جابجا پھیلا خون دیکھا۔ جنازوں پر ماں کو سینہ کوبی کرتے پایا ، مردوں کو ایک رات میں اولاد کے غم میں بوڑھا ہوتے

پایا۔   اس سانحے کے بعد اپنی ضمیر کی عدالت میں کھڑے ہوکر میرے سامنے دو ہی صورتیں بچتی تھیں یا تو اولاد کو نظر بھر کر دیکھنا چھوڑ دوں کہ نفرت کے معاشرے میں نہ اپنے پیاروں سے اس قدر محبت اور ایسے حادثوں میں جدا ہو جانا موت سے بدتر ہے ۔یا پھر اس سوچ اور معاشرے کی تبدیلی میں اپنا کردار ادا کروں ۔ وہ آخری دن تھا جب آئینے کے سامنے کھڑے ہوکر میک اپ برشز کو باقی سامان سمیت پیک کرکے رکھا اور اپنی ڈگری اٹھائی اور پشاور کے مقامی سکول میں ٹیچنگ کی نوکری کے لئے درخواست لکھی اور ساتھ سی وی رکھی۔ گھر والوں نے سمجھایا کہ جذباتی مت ہو۔ تم جتنا اب کمارہی ہو ٹیچنگ میں کبھی یہ ممکن نہ ہوگا ان کا کہنا بے شک درست تھا پر گھر والوں کو جواب دینا اور سمجھانا اپنے ضمیر کے سامنے جوابدہ ہونے سے کہیں بہتر ہے ، باقی انسان اپنی ضروریاتِ محدود کرنے پر قادر ہے۔

کچھ ذاتی وجوہات کے بنا پر لاہور شفٹ ہونا پڑا تو ٹیچنگ یہاں بھی جاری رہی ، بچوں کے ساتھ ان موضوعات پہ بات کرنا ، ان کے دل سے دیگر مسالک اور مذاہب کے متعلق تعصبات اور ابہام دور کرنا مقصد بن گیا۔ بچوں کو یہ درس دینا کہ اپنا عقیدہ چاہے کبھی نہ چھوڑو پر دوسروں کے عقائد کا بھی اتنا ہی احترام کرو جس کی خود توقع رکھتے ہو، طلبا کے ساتھ عوامی مسائل پر بات ہو ،انکا نقطہء نظر جانا جائے تاکہ ان میں ایک ذمے دار شہری اور اونرشپ کا احساس پیدا ہو، ان سے سٹوڈنٹ مارچ ،عورت مارچ، فاٹا اور بلوچستان کے مسائل پہ بات ہوں ۔انکو یہ بتایا جائے کہ پاکستان کے آرٹیکل 19/20 میں اقلیتوں کے حقوق کیا ہیں ؟ ہماری عملی زندگی اور انسانوں سے متعلق معاملات تو کتابوں سے باہر بکھرے پڑے ہیں ،ایسی صورت میں  طلبا ، کتابوں اور  معاشرے کے بیچ ایک استاد ہی ایک پل کا کام کرسکتا ہے ۔ اگر کوئی انتہا پسند سوچ اپنے ریڈیو پروگرام ، پمفلٹس یا سوشل میڈیا کے ذریعے ایسے قتل کے پروانے جاری کرسکتی ہے تو ایک استاد اپنے قلم سے معاشرے کی تقدیر کیسے نہیں بدل سکتا؟؟؟

آج جب اپنے اردگرد دیکھتی ہوں تو اقلیتوں کو درپیش مسائل مجھے اسی گھٹن اور ڈپریشن میں واپس لے جاتے ہیں جو پشاور میں دہشتگردی کے زمانے میں جھیل چکی ہوں ، پہلے اپنے گھر کے باہر “شیعہ کافر ” کی وال چاکنگ تکلیف دیتی تھی تو آج سوشل میڈیا پہ غیر مسلم لڑکیوں کے اغوا ،جبری نکاح ، قتل کفر اور گستاخی کے فتوے لمحہ فکریہ ہیں۔ چودہ اگست پر ہم سب نے اپنے آنگن میں پرچم لہرائے ہیں ،کیا ہم پرچم کے سفید حصے کی تعظیم اور تقدس کا حق ادا کررہے ہیں ؟ میری طرف سے آپکو آزادی مبارک پر جاتے جاتے ایک سوال ہم مطالعہ پاکستان میں یہی پڑھتے آئے ہیں کہ چودہ اگست ہندو ( سامراج ) سے مسلم اقلیتوں کی آزادی کا دن ہے ، ہم “اسلامی جمہوریہ پاکستان ” کے شہری اپنے ملک میں موجود اقلیتوں کو تحفظ دینے میں کس قدر کامیاب ثابت ہوئے ہیں ؟ یا صرف یہ بتائیے کہ اگر قومی پرچم سے سفید حصہ نکال دیا جائے تو کیا اس کا حسن پہلے کیطرح برقرار رہے گا ؟؟

Leave a Reply

Your email address will not be published.