اسرائیل اور اس کے سامراجی سرپرستوں نے غزہ کو انسانوں کا قبرستان بنا دیا ہے ۔مغربی میڈیا اسرائیل کی ننگی جارحیت کو مسلسل جائز قراردینے پر تن من دھن لگا رہا ہے جبکہ مغربی حکمران یکِ بعد دیگرے اعلانیہ کہہ رہے ہیں کہ اسرائیل کا حق ہے کہ وہ کسی بھی طرح اپنا دفاع کرے۔دوسری طرف دنیا کے عوام ہیں، بشمول مغربی ممالک کے اندر، جو تین سال سے جاری نسل کشی کی شدید مذمت حتیٰ کہ مسلسل احتجاجات کر رہے ہیں۔ اگرچہ یہ عوامی لہر فلسطینی بچوں کا قتل عام روک نہیں بھی سکی، اس نے یہ ثابت تو کیا ہے کہ دور ِ حاظرمیں انسان دوستی ، ترقی پسندی اور بین الاقوامیت کی روایات زندہ ہیں۔
پاکستان کے اندر بھی عوامی سطح پر فلسطینیوں کے ساتھ ہونے والی بربریت پر گہری رنجش پائی جاتی ہے۔ جس کا اظہار عوام کی مختلف پرتیں سڑک پر نکل کر بھی کر رہی ہیں۔ سب سے بڑے احتجاجی مظاہرے مذہبی جماعتوں کی جانب سے ہوئے ہیں مگر بائیں بازو اور ترقی پسند حلقے بھی اپنی بساط کے مطابق عوامی اجتماعت منظم کر رہے ہیں۔یہ حقیقت کسی سے پوشیدہ نہیں کہ گزشتہ 3-4 دہائیوں میں مغربی سامراج اور ہماری اپنی فوجی اسٹیبلشمنٹ کی ایما پر فلسطین کے مسئلے کو کیسے ’’اسلامی‘‘ بنایا اور دائیں بازو کے حوالے کیاگیاہے۔ یہ صرف پاکستان میں نہیں بلکہ تمام مسلمان ممالک کی یہی کہانی ہے۔ خود فلسطین کی قومی آزادی کی تحریک کی قیادت آج سے 30سال قبل تک سیکیولر، بائیں بازو کی قوتوں کے پاس تھی اور آج حماس جیسی تنظیمیں سب سے نمایاں کردار ادا کر تی نظر آتی ہیں۔
اس وقت اسرائیل سب کچھ حماس کو کچلنے کے نام پر کررہاہے۔ ترقی پسندوں کا مذہبی دائیں بازو کے ساتھ تضاد اپنی جگہ تاہم یہ قطعی طور پر ممکن نہیں ہے کہ اسرائیل اور مجموعی طور پر مغرب کی جانب کے جرائم میں حماس کو تباہ کرنے کی آڑ میں حصہ دار بنیں۔ بلکہ ہمیں اس وقت بڑھ چڑھ کر کہنا چاہیے کہ حماس جیسی تنظیموں کو اس ہی لیے تو تقویت ملتی ہے کہ سیکیولر اور لبرل اقدار کے نعرے لگانے والے مغرب کے حکمران خود مذہب کو ہتھیار بناتے آرہے ہیں۔ صیہونی ریاست نے گزشتہ 78سالوں سے فلسطین کی سر زمین پر یہودیوں کے بچائو کے نام پر قبضہ کیا ہے چنانچہ یہ اتنی حیرت کی بات نہیں ہے کہ مظلوم فلسطینیوں کے اندر بھی یہ احساس پیدا ہوگیا ہے کہ مذہب ہی کے نام پر مزاحمت کی جائے۔ لیکن یہ لازم بھی نہیں تھا اور اگر ایسا ہوا بھی ہے تو اس کی بڑی وجہ وہ سامراجی حکمت عملی تھی جس کے تحت سرد جنگ کے دوران دائیں بازو کی قوتوں کو ابھارا گیا۔ سن 2001 کے بعد نام نہاد ’’دہشت گردی کے خلاف جنگ‘‘ نے اس ’’کلچر وار‘‘ کے رجحان کو اور زیادہ مضبوط کیا ، چاہے عراق اور افغانستان کی سامراجی جنگوں کی مثال لی جائے یا فلسطین میں بڑھتی ہوئی اسرائیلی جارحیت کی۔
لیکن معاملہ صرف یہاں نہیں ختم ہوتا۔ اگر ایک طرف ہمارا کام دائیں بازو کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کو سامراجی تسلط کے ساتھ جوڑ کر دکھانا ہے تو دوسری طرف ہمیں عوامی سطح پر فلسطین اور دیگر ایسے سوالوں کو ’’اسلامی‘‘ کی بجائے بین انقلابی الاقوامیت کے اصولوں کے گرد شعور اجاگر کرنا ہے۔ آخر کار غلامی کےخلاف اور انسانی آزادی کے لئے لڑنے والے تمام انسان دوست ترقی پسند حلقوں کا ہدف یہی تو ہے۔ ہمارے بہت سے دوست یہ جائز تنقید کرتے ہیں کہ پاکستان کے مرکزی دھارے میں فلسطین اور کشمیر جیسے خطوں میں ظلم کی بہت بات ہوتی ہے مگر بلوچ، پشتون، سندھی اور پاکستان کے اندر دیگر محکوم اقوام کے حق میں بات تو کیا بلکہ ریاستی بیانیےکو ہی تقویت ملتی ہےکہ لاپتہ افراد، مسخ شدہ لاشیں، نوجوانوں کی پروفائلنگ، معدینیات، پانی، زمینیں اور دیگر قیمتی قدرتی وسائل پر قبضے پر میڈیا اور بہت سے سیاسی حلقے نہ صرف خاموش ہیں بلکہ اس سب کو ’’قومی سلامتی‘‘ اور ’’پاکستان کی ترقی‘‘ کے لئے لازم قرار دیتے ہیں۔ یقیناً ایسا ہی ہے اور بہت عرصے سے ایسا ہی ہو رہا ہے۔ بنگالیوں نے 24سال چیخ و پکار کرنے کے بعد علیحدگی کا رستہ اختیار کیاکیونکہ ان کے حقِ خودارادیت کے مطالبات کے بدلے ان کو الزام دیا جاتا تھا کہ ان میں وہ ایمان نہیں جو حب الوطن پاکستانیوں میں ہونا چاہیے۔
اس ریاستی بیانیے کے تسلط کو سن 1971 کے بعد اور بھی مضبوط کیا گیا۔اسے مطالعہ پاکستان کا باقائدہ مضمون بنایا گیا۔ بلوچوں پر فوج کشی کی گئی۔ بلکہ پاکستان کے اندر محکموم اقوام کے سوال پر بات کرنے والوے پر وہی غداری اور ایمان کے فقدان کے الزامات لگائے گئے جو بنگالیوں پر لگتے تھے۔ جبکہ باقی دنیا میں فلسطین جیسی قومی آزادی کی تحریکات کو ’’اسلامی‘‘ بنا کر پیش اور اسی بنیاد پر ان کو پاکستانیوں کی حمایت کا حقدار ثابت کیا گیا۔آج ہمیں اس تلخ حقیقت کو تسلیم کر لینا چاہیے کہ سامراج اور پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کامیابی سے پاکستان کے بیشتر عوام کے تصور ِ کائینات کو ’’اسلامی‘‘ بنا چکے ہیں۔لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ سماجی شعور کو پھر سے بدلانہیں جا سکتا۔ کہ پاکستان کے اندر بھی قومی سوال کو طبقاتی اور دیگر سوالوں کے ساتھ جوڑ کر ترقی پسند نظریات کو مرکزی دھارے کی سیاست میں پھر سے دھکیلا نہیں جا سکتا۔ اور اسی طرح عالمی سطح پر انقلابی بین الاقوامیت کو اجاگر نہیں کیا جا سکتا۔
سچ تو یہ ہے کہ اس وقت پاکستان کے اندر محکموم اقوام بھی مشترکہ جدو جہد نہیں کرتے۔ حالیہ سندھی اور پشتون و افغان قومی سوالوں پر ترقی پسند دوستوں کا شدید تناؤ اس کا تازہ ترین ثبوت ہے ۔ مجموعی طور پر ہر قومی سوال کا دوسرے کے ساتھ کہیں نہ کہیں سمجھ اور عملی سیاست میں تضاد ابھرتا رہتا ہے۔نسبتاً کھلے ڈھلے ماحول والے تعلیمی اداروں کے اندر، جیسا کہ قائد اعظم یونیورسٹی ہر تھوڑے عرصے بعد بند ا س لئے ہوتی ہے کہ بلوچ، سندھی، پشتون ،پنجابی ، سرائیکی، جی بی وغیرہ کی بنیاد پر بنے ہوئے طلبہ کانسل ایک دوسرے پر تشدد پر اتر آتے ہیں۔
اسی طرح گاہے بگاہے فیمنسٹ حلقوں کے درمیان جھگڑا، بائیں بازو کی مختلف پارٹیوں کے درمیان (اور پارٹیوں کے اندر بھی!) کھینچا تانی ہوتی ہے۔
ترقی پسند حلقے اتنے کمزور ہونے کے باوجود انتے منتشر کیوں ہیں؟ کیا بنیادی نکتہائے نظر اتنے مختلف ہیں کہ اکٹھے مل کر سیاست کرنا ممکن ہی نہیں؟یا وجہ یہ ہے کہ ترقی پسند سیاسی حلقے شعوری یا لا شعوری طور پر دورِ حاظر کی نفرت انگیز سیاست، انا پرستی اور سوشل میڈیا کے انتہا پسند پوسٹوں کو وائرل کرنے والے منطق میں جکڑے جا چکے ہیں؟
اگر ترقی پسندی اور بائیں بازو کا مطلب طبقاتی، سامراجی، صنفی ، قومی تضادات کو سمجھنا اور استحصال کی ہر شکل کو ختم کرنے کی جدو جہد کرنا ہے تو ترقی پسندوں کے مختلف حلقوں کو ایک دوسرے کے قریب آنے میں اتنی دکّت نہیں ہونی چاہیے۔ریاست کے ’’اسلامی‘‘ ہبیانیےکو چیلنج اور پاکستان کے حدود کے اندر محکوم اقوام کی جدو جہد کا حصہ بنتے ہوئے بھی فلسطینی عوام کے ساتھ اظہارِ کجہتی کی جا سکتی ہے۔ اپنے مخصوص شناخت کے گروہ کے مسئلے کو زبردستی دوسری شناخت کے گروہوں سے فرق کرنا ترقی پسندی نہیں ہے۔ محکوم اقوام، بالادست خطے اور پنجاب کے اندر استحصال زدہ محنت کش طبقات بھی ایک ہی نظام کا شکار ہیں۔۔ بے شک فرق انداز میں ہے۔ لہذا اتنا ہی فرق کرنا چاہیے کہ خود نظام کو مضبوط نہ کریں۔
فلسطینی عوام کے قتل عام پر دنیا بھر میں جو عوامی ردِ عمل آیا ہے اس سے ہمیں پاکستان میں بھی سبق لینا چاہیے کہ دنیا کے محکوم اقوام و محنت کش عوام اگر منظم ہوں تو پھر ہی تمام انسانوں کی آزادی کا امکان بھی پیدا ہوتا ہے۔ یقیناً فلسطینیوں کی غلامی اتنی جلدی ختم نہیں ہوگی۔ اسرائیلی جارحیت اور فلسطینیوں کی بربادی 78 برس سے جاری ہے۔ بلکہ صیہونی تحریک کو مغربی سامراج کی حمایت کا یک صدی سے زیادہ کا عرصہ ہو چکا ہے۔
اسی طرح ترکی کی ریاست کردوں اورارمینی لوگوں کا قتل عام کر رہی ہے۔ ہندوستان میں مودی سرکاراور آر ایس ایس جیسی فاشسٹ تنظیموں کی سربراہی میں مسلمانوں، دلتوں ، اسامی، کشمیری اور دیگر محکوم اقوام پر آئے روز ظلم کے پہاڑ ٹوٹتے ہیں۔ سعودی عرب کی ریاست ہر تھوڑے عرصے بعد یمن پر بمباری کرتی ہے۔ فرانس نے حال ہی میں مغربی افریقہ کے اندر اپنی سابقہ نو آبادیوں میں من مرضی کی حکومتیں ایک بار پھر مسلط کرنے کی کوشش کی ہے، اکثر اوقات وحشی فوجی جرنیلوں کے زریعے۔۔ایسی مزید مثالیں بھی دی جاسکتی ہیں، کیونکہ عالمی سامراجی نظام اور نام نہاد جمہوری ریاستوں کے ہوتے ہوئے دنیا کے بیشتر لوگ غلامی میں جکڑ ے رہیں گے۔ انقلابی بین الاقوامیت ہی وہ نظریاتی ڈھانچہ ہے جو اس نظام سے نجات دلو ا سکتا ہے۔ یہ کب ہوگا کچھ کہا نہیں جا سکتا۔مگر اپنے ہی فطری اتحادیوں سے کٹے رہنے کا مطلب یہ ہے کہ مذہبی منافرت اور لبرل سامراج نوازی کے کلچر وارز ہی سیاست کا محور بنے رہیں گے۔
