نظم: زمین کا خیال

زمین کا خیال کیا
مریخ والے رکھیں گے؟
یہ زمین ہماری ہے
ہماری ذمہ داری ہے
تمھیں بھی ہونی چاہیے
مجھے تو بہت پیاری ہے
کرو خیال اس کا کہ
یہ نہیں تو ہم نہیں
درخت کٹتے دیکھو جو
آواز ضرور اٹھاو تم!
جو بھی کر سکو، کرو!
زمین کو بچاو تم
جتنا تم سے ہو سکے
پھول پودے لگاو تم!
ہیں گلیشیئر پگھل رہے
حرارتیں ہیں بڑھ رہیں
زمین کو صحت نہیں
یہ حالت بیماری ہے
سیلاب زیادہ ہو گئے
بارشیں طوفانی ہیں
پڑھو تم ذرا غور سے
پیچھے کیا کہانی ہے
ترقی ہم نے کی تو ہے
خطا بھی ہم سے ہو گئی
زمین جو ہماری ہے
تباہ بھی ہم سے ہو گئی

یہ نظم ارفع احسن کی تحریر ہے۔ سٹوڈینٹ ہیرلڈ کے لیے لکھنے کے لیے رابطہ کیجیے: writetostudentsherald@gmail.com

One thought on “نظم: زمین کا خیال”

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *