میرا بلوچستان

میرا بلوچستان

تحریر: میر قیوم گچکی،
پنجاب یونیورسٹی

بلوچستان ایک خزانہ ہے اس کے جس پہاڑ کو کھودیں ایک نئی دھات، ایک معدنی زخیرہ آپ کو ملتا ہے لیکن بلوچستان تعلیم صحت سے محروم زندگی اور کئی مسائل میں گھرا ہے یہ معدنیات پرایوں کے کام آئے ہیں، جب بھی حکمران آئے چاہے فوجی ہوں یا جمہوری بلوچستان کو صرف لوٹا گیا، کوئی بنیادی ضرورت کی چیز نہیں بنائی گئی۔

وفاقی حکومت کے مطابق بلوچستان میں ترقیاتی کام ہورہا ہے لیکن اصل میں یہ صرف جھوٹے دعوے ہیں۔بلوچستان کا صرف آپ لوگوں نے نام سے سنا ہوگا کیونکہ اسے نو گو ائیریا بنایا گیا ہے، قومی اسمبلی کے رکن جیسا کہ محسن داوڑ کا جانا بھی وہاں ممنوع ہے تو عام شخص بلوچستان اور اس کے مسئلے کو سمجھ سکتا ہے؟

پنجاب کے دوست آج بھی بلوچ کو بلوچی بولتے ہیں تو اس سے اندازہ لگا جا سکتا ہے، پنجاب کے لوگ بلوچستان سے کتنا محبت کرتے ہیں یا جانکاری رکھتے ہیں۔
شکوے تو بہت ہیں پنجاب سے، خیر بلوچستان کے مسائل پر تھوڑا نالہ سنائیں گے تاکہ پنجاب کے سیاسی دوستوں کو علم ہو بلوچ اور بلوچستان کیوں جل رہا ہے۔

بلوچستان  کی کہانی دہائیوں پر محیط ہے جس کی جیوگرافک اور سٹریٹجک بین الاقوامی حثیت ہے جس پر دنیا کے بڑی طاقتوں کی نظر ہے۔
بلوچستان کے معدنی ذخائر کے علاوہ گوادر ایک اہم حصہ ہے۔ پاکستان گوادر کو اپنا دل قرار دیتا ہے، سی پیک کا شوشا سے یہی تاسیر دے رہے ہیں کہ اب بلوچستان بدلے گا اور ترقی کے اس مقام تک جائے گا جس مقام پر پنجاب ہے۔
جناب بلوچستان کو سوئی گیس سیندک ریکوڈک سے نہ بدلاجاسکا تو سی پیک کیا چیز ہے!
معذرت، چائینہ کے پیسے صرف لاہور اور پنجاب پر خرچ ہوئے ہیں۔
فوج اور لبریشن آرمی، آزادی کی جنگ یا فوج کی قبضہ گیری، افغانستان کی اثرات یا ایران کی سازش اور ہندوستان کی مداخلت اپنی جگہ پہلے ریاست یہ بتائے  بلوچ نارض کیوں ہیں اور ان کو منانے کے لیے کیا پالیسی ہے؟

ایسے بہت سارے کمانڈر ہیں جو پہلے لبریشن آرمی کے لیے آزادی جنگ لڑرہے تھے تو اب فوج کے لیے بلوچ نسل خوشی کا سبب بنے ہیں۔ اور ان میں سرفہرست مہر اللہ محمد حسنی ہے جو ڈاکٹر اللہ نظر کا سالہ ہے۔
اب فوج حکومت سے کوئی سوال کرے مہر اللہ کو اتنے ریلیسکشن کیوں؟
جواب یہ ہے کہ طاقتور حلقہ بلوچستان کو ایک جنگی میدان بنانا چاہتا ہے۔
تعلیم کے پالیسیوں پر کیا بات کریں، پہلی یونیورسٹی 1904 کو بنی تو پچاس سال بعد دو اور یونورسٹی بنیں۔ اسکولوں میں بلڈنگ نہیں اگر بلڈنگ ہے تو استاد نہیں۔
سرکاری ملازمت پر وفاق نے کبھی بھی بلوچستان کا کوٹہ نہیں دیا اور بلوچستان کی ملازمت میں کافی تعداد میں دوسرے صوبے کے ہمارے قابل احترام بھائیوں نے قبضہ کر لیا ہے۔

منشیات اور اسلحہ کے بارے شاید پنجاب کے لوگوں کو علم نہ ہو مگر طاقتور حلقہ بلوچستان کو صرف ایک روٹ کے لیے استعمال کررہا ہے، اور منشیات اسلحہ سمندری راستوں سے افریقہ، یمن اور یورپ تک پہنچایا جاتا ہیں اور جب تک اس کاروبار کو بند نہیں کردیا جاتا تب تک بلوچستان اس جنگ کی آگ میں جلتا رہے گا۔
بلوچستان کا مسئلہ سیاسی ہے، اور افغانستان ایران اور انڈیا کی مداخلت ہیں مگر سیاسی حل ہی بلوچستان کو امن دے سکتا ہیں، الیکشن میں دھاندلی بند کردی جائے، طلباء کو ہراس نہ کیا جائے،
سیاسی کامریڈ اور طلباء کو لاپتہ کرنا بند ہونا چاہیے اور اس کے لیے ضروری ہے کہ اختیارات سیاستدانوں کے حوالے کیے جائیں کیونکہ وہی بلوچستان کو دیرپا حل کی طرف لے کر جا سکتے ہیں۔

One thought on “میرا بلوچستان”

  1. بلوچ احباب کو محبت و الفت سے اپنا بنایا جا سکتا ہے اور ان کے غاصب کردہ حقوق ان کو واپس کر ہی بصورتِ دیگر یہ غیر ملکی طاقتوں کا آلہ کار بنتے رہے گے جن کے ذمہ دار حکمران خود ہونگے ہمیں ایک نیا بلوچ دیش بننے سے پہلے ہی ہر ممکن اقدام کرنے ہونگے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *