سروس اور پے پروٹیکشن نہ دینے پر اساتذہ کا احتجاج

سروس اور پے پروٹیکشن نہ دینے پر اساتذہ کا احتجاج

رپورٹ: سٹوڈنٹس ہیرلڈ

سروس اور پے پروٹیکشن کے حصول کے لیے سکول اور کالج کے اساتذہ نے دو اکتوبر بروز جمعہ کو مسجد شہدا سے اسمبلی ہال تک ریلی نکالی جس میں پنجاب بھر سے اساتذہ نے شرکت کی۔ اساتذہ سے اظہار یکجہتی کے لیے پروگریسو سٹوڈنٹس کولیکٹو کی قیادت میں طلبہ کی بڑی تعداد نے ریلی میں شرکت کی۔

ریلی کی قیادت پنجاب پروفیسرز اینڈ لیکچر ایسوسی ایشن اور پنجاب ایجوکیٹرز ایسوسی ایشن نے کی۔

پی پی ایل اے اور پی ای اے کا کہنا تھا کہ حکومت نے مارچ 2019 میں اساتذہ کے دھرنے کے نتیجے میں تمام مطالبات تسلیم کرتے ہوئے وعدہ کیا تھا کہ چار ماہ میں سروس اور پے پروٹیکشن ادا کر دیا جائے گا لیکن ابھی تک اس معاملہ میں کوئی پیش رفت سامنے نہیں آئی۔ اس لیے ہمیں آج پھر سڑکوں پر آنا پڑا۔

انھوں نے کہا کہ ہم حکومت کو مزید دو ماہ کا وقت دے رہے ہیں۔ اگر پھر بھی حکومت نے اپنا وعدہ پورا نہ کیا تو ہم غیر معینہ مدت کے لیے دھرنا دیں گے۔

See also  جی سی یو فیصل آباد لیہ کیمپس نے طالبات کی جنسی ہراسگی کی تصدیق کر دی

یاد رہے پی پی ایل اے اور پی ای اے ان مطالبات کے لیے راولپنڈی، ملتان سرگودھا اور اور گوجرانوالہ میں بھی احتجاج کر چکی ہے۔
اس حوالے سے حقوق خلق موومنٹ کے رہنما پروفیسر عمار علی جان نے سٹوڈنٹس ہیرلڈ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ قوم کے معماروں کے ساتھ یہ رویہ انتہائی افسوس ناک ہے۔ انھوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ اساتذہ کو معاشی تحفظ نہیں دیا جائے تا کہ وہ اپنی مکمل توجہ طلبہ کی تربیت پر مرکوز کر سکیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *