بھوک ہڑتال کے باعث ڈاو یونیورسٹی کے کئی طلبہ کی حالت تشویشناک

بھوک ہڑتال کے باعث ڈاو یونیورسٹی کے کئی طلبہ کی حالت تشویشناک

رپورٹ: انضمام میراج

ڈاؤ میڈیکل کالج کراچی کے طلبہ نے پچھلے ایک ہفتے سے ہاسٹلز کی بحالی کے لیے کراچی پریس کلب کے سامنے بھوک ہڑتال اور دھرنا دیا ہوا ہے۔

تفصیلات کے مطابق سندھ حکومت نے ایک نوٹیفکیشن کے ذریعے ڈاؤ میڈیکل کالج کے ہاسٹلز کی عمارت کو انسٹیٹیوٹ آف فزیکل میڈیسن اینڈ ریہیبلیٹیشن (آئی پی ایم آر ) کے حوالے کردیا تھا۔ جس کے بعد سے طلبہ مسلسل ہاسٹلز کی بحالی کے لیے احتجاج کررہے ہیں۔ اس سے پہلے بھی طلبہ کی جانب سے 23جولائی کو کراچی پریس کلب کے سامنے ، 18 اگست کو ڈاؤ میڈیکل کالج کے گیٹ کے سامنے اور 22 اگست کو آئی پی ایم آر کے سامنے احتجاج کیا گیا تھا۔

مطالبات کی سنوائی نا ہونے پر طلبہ کی جانب سے 13ستمبر کو دھرنا اور بھوک ہڑتال کا اعلان کردیا گیا۔سٹوڈنٹ ہیرالڈ سے بات کرتے ہوئے طلبہ کا کہنا تھا کہ کالج کی طرف سے ہاسٹلز کے لیے تین عمارات مختص کی گئی تھی۔جن میں ہاسٹل1 جسے وارث شاہ ہاسٹل بھی کہا جاتا ہے ، ہاسٹل2 اور ہری برائی پراگجی کاریہ ہاسٹل شامل تھی۔2007 میں آئی پی ایم آر کو قائم کرنے کے لیے ان تینوں ہاسٹلز کی عمارات کو استعمال کیا گیا جبکہ طلبہ کو سندھ میڈیکل کالج کی عمارات میں رہائش فراہم کی گئی۔مگر 2013 میں سندھ میڈیکل کالج کو جناح سندھ میڈیکل کالج یونیورسٹی کے حوالے کردیا گیا اور ڈاؤ میڈیکل کالج کے طلبہ کو ہری بائی پراگجی کاریہ ہاسٹل میں بھیج دیا گیا جو کہ اپنی خستہ حالی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ طلبہ کے احتجاج پر انھیں ہاسٹل 2 کی عمارت میں چھ میں سے تین فلور رہائش کے لیے دیے گئے۔ مگر ہاسٹل2 کی عمارت میں بھی تعمیراتی کام ادھورا پڑا ہے۔جبکہ باقی دو ہاسٹلز کی عمارات ابھی بھی آئی پی ایم آر کے قبضے میں ہے۔

See also  پی ایس سی اور سی ٹی ڈی کی جانب سے قلعہ عبداللہ می لائبریری قائم

طلبہ کا کہنا ہے کہ انکا مطالبہ ہے کہ ڈاؤ میڈیکل کالج کے ہاسٹلز پر غیر قانونی قبضہ ختم کیا جائے اور انکو تمام سہولیات کے مطابق بحال کیا جائے۔

طلبہ کا مزید کہنا تھا کہ بھوک ہڑتال کی وجہ سے ہمارے کئی ساتھیوں کی حالت انتہائی نازک ہے۔ مگر گزشتہ دن سندھ حکومت کے وزیر سعید غنی کی جانب سے ان سے مزاکرات کیے گئے جنکی یقین دہانی پر انھوں نے بھوک ہڑتال تو ختم کردی ہے مگر مطالبات کی منظوری تک وہ احتجاج جاری رکھیں گے۔ اگر انکے مسائل حل نا کیے گئے تو نقصان کی ذمہ داری سندھ حکومت اور ڈاؤ میڈیکل کالج کی انتظامیہ پر ہوگی۔

اس حوالے سے جب ہم نے طلبہ تنظیم پروگریسو سٹوڈنٹس کلیکٹو کے رہنما علی رضا سے بات کی تو انھوں نے ڈاؤ کے طلبہ کیساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پروگریسو سٹوڈنٹس کولیکٹو حکومت سے ہاسٹلز پہ غیر قانونی قبضہ ختم کروانے کا مطالبہ کرتے ہیں۔انکا مزید کہنا تھا کہ پی ایم ڈی سی پروٹوکول کے مطابق تمام طبی اداروں کے کالجوں میں مرد طلباء کی کل تعداد کے بیس فیصد کو ہاسٹل فراہم کرنا لازمی ہوتا ہے اور افسوس کی بات ہے کہ یہاں قوانین کی شدید خلاف ورزی کی جارہی ہے۔ انھوں نے مطالبہ کیا کہ نہ صرف نہ صرف ڈاو، پنجاب یونیورسٹی اور دیگر کئی جامعات میں طلبہ کو ہوسٹل کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *