پنجاب یونیورسٹی لاء کالج کے طلبہ نے امتحانی پالیسی مسترد کر دی

پنجاب یونیورسٹی لاء کالج کے طلبہ نے امتحانی پالیسی مسترد کر دی

رپورٹ: انضمام میراج

سات ستمبر کو امتحانات کی ڈیٹ شیٹ آنے کے بعد پنجاب یونیورسٹی لا کالج کے طلبہ انتظامیہ کی امتحانی پالیسی کیخلاف شدید احتجاج کررہے ہیں۔
تفصیلات کے مطابق پنجاب یونیورسٹی لا کالج لاہور کی انتظامیہ کی طرف سے اس ماہ کی سات تاریخ کو طلبہ سے امتحانات لینے کی ڈیٹ شیٹ جاری کی گئی ہے ۔ جس کے مطابق طلبہ کے امتحانات اس ماہ کی 26 تاریخ کو شروع ہوں گے۔ تاہم امتحانات لینے کے حوالے سے انتظامیہ کی طرف سے جو پالیسی بنائی گئی ہے اس کو لے کر طلبہ میں شدید بے چینی پائی جارہی ہے۔ طلبہ کا کہنا ہے کہ انتظامیہ کی جانب سے پہلے انکا تین بار سلیبس بدلا گیا ہے۔ اسکے بعد امتحانات کے حوالے سے انتظامیہ کی طرف سے یقین دہانی کروائی گئی تھی کہ قبائلی علاقوں کے طلبہ یا وہ طلبہ جو اپنے علاقوں میں انٹرنیٹ کی سہولت میسر نا ہونے کی وجہ سے آنلائن کلاسز نہیں لے سکے تھے تعلیمی مراکز کھلنے کے بعد انکی یونیورسٹی میں باقاعدہ کلاسز ہوں گی پھر امتحانات لیے جائیں گے. مگر ابھی اس حوالے سے بھی کوئی پالیسی نہیں بنائی گئی.

See also  پروگریسو سٹوڈنٹس کولیکٹو کا 27 نومبر کو سٹوڈنٹس سولیڈیرٹی مارچ کا اعلان

اس حوالے سے لا کالج کے طالب علم احسان اللہ نے سٹوڈنٹ ہیرالڈ سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ انتظامیہ کی جانب سے طلبہ کے امتحانی سینٹر بناتے ہوئے طلبہ کی مشکلات کا بالکل دھیان نہیں رکھا گیا ۔ انکا کہنا تھا کہ انتظامیہ نے آبائی علاقوں کا کہہ کر طلبہ کے امتحانی سینٹر دوسرے اضلاع میں بنا دیے ہیں۔ اکثر طلبہ کو امتحان دینے کے لیے اپنے گھروں سے تقریباً دو دو سو کلومیٹرز کا سفر کرکے امتحانی سینٹر پہنچنا ہوگا۔ جس میں طلبہ کو خصوصاً طالبات کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ انکا مزید کہنا تھا کہ امتحانات کا ویسے ہی طلبہ پہ بہت زیادہ دباؤ ہوتا ہے اور اس وبائی صورتحال کی وجہ سے طلبہ اسکے علاؤہ بھی مالی اور دوسرے نفسیاتی دباؤ کا شکار ہیں۔ایسے میں انتظامیہ کی طرف سے ایسے فیصلے طلبہ کے زخموں پہ نمک چھڑکنے کے مترادف ہیں۔

طلبہ کے مطالبات کے بارے میں بات کرتے ہوئے انکا کہنا تھا کہ ہمارا سب سے پہلا مطالبہ یہ ہے کہ امتحانات کی تاریخ کو بڑھایا جائے اور جن طلبہ کے امتحانی سینٹر دوسرے اضلاع میں بنائے گئے ہیں انھیں تبدیل کیا جائے اور انکے اپنے اضلاع میں بنائے جائیں۔ اسکے علاؤہ جن طلبہ کا سینٹر لاہور میں بنا ہے انکے لیے ہاسٹل کھولے جائیں اور جو طلبہ آن لائن کلاسز نہیں لے سکے تھے انکی مشکلات کو سمجھا جائے اور انکے حوالے سے واضح پالیسی بتائی جائے۔

See also  اسلامیہ کالج پشاور: آئی ایس ایف اور کے ایس اے کا پختون سٹوڈنٹس فیڈریشن کے طلبہ پر حملہ

اس حوالے سے طلبہ تنظیم پروگریسو سٹوڈنٹس کلیکٹو کے رہنما رائے علی آفتاب نے ہم سے بات کرتے ہوئے کہا ‘ہم انتظامیہ کے ان فیصلوں کا مکمل بائیکاٹ کرتے ہیں اگر انتظامیہ نے اپنے فیصلوں پر نظر ثانی نا کی تو ہم یونیورسٹی کے سامنے دھرنہ دیں گے ۔ انکا مزید کہنا تھا کہ یہ اب ایک حقیقت بن چکی ہے کہ انتظامیہ کی نظروں میں طلبہ کے مسائل کی کوئی وقعت نہیں ہے۔ جب تک طالب علم سڑکوں پر نا نکلیں تب تک انکے امتحانات بھی غیر منصفانہ طریقوں سے لینے کی کوشش کی جاتی ہے۔’ انھوں نے گورنر سے بھی اس معاملہ میں مداخلت کا مطالبہ کیا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *