شفقت ملک: آزار ریاست کا لاپتہ شہری

Jaleel Agha

شفقت ملک ایک پڑھا لکھا باشعور نوجوان ہے, جو سندھ یونیورسٹی سے کمپیوٹر سائنس کی تعلیم مکمل ہونے کے بعد ایک سکول میں پڑھا رہا تھا اور اس کے ساتھ ہی سماجی کاموں میں بھی ہمیسشہ متحرک رہتا تھا۔ شفقت ملک نے سندھ یونیورسٹی جامشورو حیدرآباد میں 2014 میں  کمپیوٹر سائنس میں اپنی ڈگری مکمل کی۔  اس کے بعد شفقت نے اسلام آباد کے اندر نمل یونیورسٹی آف ماڈرن لینگویجز (NUML) میں چائینیز زبان کا کورس کیا۔ اس کے بعد 2017 سے 2019 میں  گھوٹکی کے ایک نجی لا کالج میں کمپیوٹر آپریٹر کے طور پر نوکری کی۔ بیک وقت وہاں پہ ٹیچنگ بھی کرتا رہا۔

شفقت ملک گھوٹکی میں سماجی اور سیاسی کام میں  اہم کردار ادا کیا ۔ وہ گھوٹکی کے اندر لائبریری کا مسئلہ ہو یا پھر کوئی بیمار بے سہارہ ہو، تو وہ پیسہ جمع کرنے کے لیے مختلف دوستوں سے مل کر کیمپ لگاتے تھے اور پیسے جمع کر کہ اس کا علاج کرنے کوشش کرتے تھے اور کئی بار میڈیکل کیمپ بھی لگایا-  کورونا وبا کے دوران 500 سے زائد غریب لوگوں میں راشن تقسیم کیا۔

سیاسی حوالے سے گھوٹکی میں اسٹوڈنٹ یونین کی بحالی میں طلبہ یکجہتی مارچ کو آرگنائیز کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔

See also  ماں جیسی ریاست کا طلبہ کے ساتھ سوتیلوں جیسا سلوک کیوں؟

 

شفقت عوامی ورکرز پارٹی گھوٹکی کا یونٹ سیکریٹری ہے، وہ عوامی ورکز پارٹی جو شاگرد، عورت، مزدورو، ہارے پسے ہوئے طبقے کے مظلوموں اور محنت کشوں کی بائیں بازو کی ترقی پسند جماعت ہے، جو کچی آبادی کے لوگوں کی بات کرتی ہے، جو مزدور، کسان، شاگردوں، عورتوں، مظلوم طبقے پر معاشی استحصال کا نظام بدلنے کی راہ پر چل رہی ہے۔ جو غیر طبقاتی سماج چاہتی ہے جس میں سب ایک خوشگوار اور برابری کی زندگی گزار سکیں۔ ایک انسان دوست، امن دوست جماعت جو طبقاتی، صنفی، مذہبی اور ہر تفریق سے ہٹ کر ایک نئے سماج کی تشکیل کی راہ کی طرف پیش رفت ہے۔ اس پارٹی کے کارکنان کیسے دہشت گرد ہو سکتے ہیں؟؟ اس فرسودہ اور جبر کے نظام میں جب ظلم و جبر اور نا انصافی کی فضا میں عوام پس رہی ہو ،تب شفقت جیسے کئی لوگوں کو اس نظام کی ذمہ داریاں اپنے کندھوں پر لینی پڑتی ہیں، جب آپ کے لوگ بھوک سے بیماری سے موت کے منہ میں جا پہنچے تب شفقت جیسے نوجوان کڑی دھوپ میں کبھی کسی بیمار کے آپریشن کے لئے پیسے جمع کر کے اس کا علاج کرواتے ہیں تو کبھی کورونا وائرس کے سبب بیروزگار غریب نچلے طبقے لوگوں، مزدوروں کے گھر گھر جا کر راشن پہنچاتے ہیں۔ کورونا وبا کی صورتحال میں 500 سے زائد گھرانوں کو راشن پہنچانا شفقت کی نہیں اس ریاست کی ذمہ داری ہے، عوام کو بہتر صحت اور روزگار دینا ریاست کی ذمہ داری ہے۔ لیکن ایسے لوگ جو اپنے لوگوں کو اس حال میں نہیں دیکھ سکتے، ان کے حقوق کی بات کرتے ہیں،  وہ غدار ہیں اور عوام کو بھوک، بیروزگاری، ناانصافی اور خوف کی فضا دینے والے محب وطن! افسوس ہے کہ آج کرپٹ سرمایہ پرست،جاگیردار اور نام نہاد سیاستدان محب وطن اور آزاد ہیں جو کہ عوام کے خون چوس کر اعوانوں میں بیٹ کر عیاشیاں کر رہے ہیں۔ وہ آزاد ہیں! اور جو عوامی اور پسے ہوئے طبقات کی سیاست کر رہے ہیں وہ پابند سلاسل ہیں۔  پہر بھی ہم  یہ نارہ بلند کرتے رہیں گے کہ

See also  ماں جیسی ریاست کا طلبہ کے ساتھ سوتیلوں جیسا سلوک کیوں؟

جب تک جنتا بھوکھی ہے۔

یہ آزادی جھوٹی ہے۔

شفقت، شاگردوں کے حقوق کی بات کرتا ہے اور جب سندھ کے ڈومیسائل پر باہر کے لوگ نوکریاں لیں اور سندھ کے نوجوان بیروزگار ہوں تب حق کی بات کرنا غداری ہے؟

جب آپ کے لوگ پانی کے مسائل سے گزر رہے ہوں اور ان حالات میں حکومت ڈیم بنانے کے منصوبے بنانے لگے تو آپ کا اپنے حق کے لیے آواز اٹھانا غداری ہے؟

جب سندھ سے لوگ اٹھا لئے جائیں ان کے گھر والے ماں بہن پریس کلب پر انصاف مانگتی رہیں، روتی سسکتی رہیں اور ان کے پیاروں کی خبر نا عید پر آئے نا ہی اس دن جب ایک طرف پورا ملک آزادی منا رہا ہو اور ان کی اشکوں سے بھری آنکھیں، تھکی ہوئی امید ٹوٹ رہی ہو اور ہر لمحہ عذاب اور دکھ کے عالم میں گذرے، تب حق کی بات کرنا غداری ہے؟

تو یہ غداری شفقت نے بھی ہر موڑ پر اپنے مظلوم لوگوں کی بات کر کے ضرور کی ہے، اور سندھ  میں ہر نا انصافی پر سوال کرتی آئی ہے، کر رہی ہے اور کرتی رہے گی کیونکہ اس مٹی کے لوگوں کے جسم کو زنجیروں کی عادت ہے، لیکن حق کی بات پر خاموش رہنے کی نہیں-

See also  ماں جیسی ریاست کا طلبہ کے ساتھ سوتیلوں جیسا سلوک کیوں؟

جیسے شیخ ایاز کہتا ہے کہ: ” تاریخ کی مہک مقناطیس جیسی ہوا کرتی ہے جو صرف انہیں کھینچتی ہے، جن کے جسم میں لوہا ہوتا ہے۔”

 

2 thoughts on “شفقت ملک: آزار ریاست کا لاپتہ شہری”

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *