بیکن ہاؤس اساتذہ اور طلبہ شدید مشکلات کا شکار

بیکن ہاؤس اساتذہ اور طلبہ شدید مشکلات کا شکار

رپورٹ: محمد انضمام

معروف تعلیمی ادارے بیکن ہاؤس کے ملازمین شدید معاشی مشکلات کا شکار ، مالکان نے بغیر اجازت تنخواہوں میں کٹوتی کرکے رقم وزیراعظم فنڈ میں جمع کروائی ۔


بیکن ہاؤس ملک کے معروف سیاسی گھرانے قصوری خاندان کی ملکیت ہے ۔ اس ادارے کے تعلیمی مراکز ملک بھر میں کام کررہے ہیں۔ جن میں ملازمین کی ایک بڑی تعداد کام کرتی ہے ۔یہ ادارہ وومن امپاورمنٹ کا بڑا علمبردار ہے اور اسکے ملازمین میں تقریباً باسٹھ فیصد تعداد خواتین کی ہے ۔ یہ ملک کے باقی نجی تعلیمی اداروں سے مختلف تعلیمی نظام کا حامل ہے ۔ حال ہی میں کرونا جیسی وبائی صورتحال میں وزیراعظم پاکستان عمران خان نے ایک کرونا فںڈ قائم کیا جس میں اندرون و بیرون ملک مقیم ملک کے مخیّر حضرات سے امداد جمع کروانے کی اپیل کی گئی تھی ۔

اس فنڈ میں بیکن ہاؤس نے چھ کروڑ کی خطیر رقم جمع کروائی جس کے لیے ملازمین کی تنخواہوں میں سے کٹوتی کی گئی ۔ کرونا فنڈ میں رقم جمع کروانے کے لیے اساتذہ کی تنخواہوں میں سے دس فیصد ، ایڈمنز کی پندرہ فیصد اور ایگزیکٹو ملازمین کی تنخواہوں میں بیس فیصد ترتیب وار کٹوتی کی گئی ۔
تنخواہوں میں اس کٹوتی سے ملازمین میں شدید تشویش پائی جا رہی ہے ۔

See also  پنجاب یونیورسٹی کے سامنے طلبہ کا دھرنا جاری

اس حوالے سے جب ہم نے بیکن ہاؤس سے تعلق رکھنے والے ایک استاد سے بات کی تو انھوں نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا ‘ہماری رائے لیے بغیر ہماری تنخواہوں میں کٹوتی کی گئی ہے ، اس وقت جب وبا جیسی صورتحال میں وہ پہلے ہی مالی بحران کا شکار ہیں تو ادارے کی طرف سے یوں بغیر رائے لیے انکی تنخواہوں میں کٹوتی سراسر ظلم ہے’ انکا مزید کہنا تھا کہ ایک طرف یہ طلبہ کی فیسوں میں کمی کرنے کو تیار نہیں ہیں والدین کی کئی گزارشات کے باوجود فیس کم نہیں کی گئی اور دوسری طرف ویلفیئر شو کے نام پہ اپنے ملازمین کا پیٹ کاٹا گیا’

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *